عید خوشیوں کا تہوار ہے۔ آپس میں مل بانٹ کر محبت اور خوشیاں بانٹنا، تحفے تحائف اور عیدی دینا، دُکھ سُکھ بانٹنا، ایک دوسرے کا خیال کرنا ہی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرتا ہے۔ انسان کی زندگی میں غم، دکھ، پریشانی اور تکالیف آتی رہتی ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ مذہبی تہوار یعنی عید جیسے پُرخلوص موقع پر خوشی نہ منائے اور غم کرتا رہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس گھر میں عید سے پہلے کوئی میت ہو جائے، کوئی پیارا بچھڑ جائے تو اس کے جانے کے بعد پہلی عید نہیں منائی جاتی۔
یہ کونسا طریقہ ہے؟ یہ کس کا رواج ہے؟ کیا یہ طریقہ اسلام میں ہے؟ کیا یہ واقعی درست عمل ہے؟
خوشی کا تعلق غم سے ہر گز نہیں ہوتا۔ عید کے دن کو خوشی سے منانا چاہیے۔ عید کے دن تو نئے کپڑے زیب تن کرنے والے کو خُدا بھی پسند کرتا ہے۔ جس کے پاس نہ ہوں وہ الگ مسئلہ ہے لیکن جو صاحبِ استطاعت ہیں وہ لازمی پہنیں۔ شرعی اعتبار سے شوہر کے علاوہ کسی کے انتقال کے بعد 3 دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں۔ اس لیے فوت شدگان کی پہلی عید پر باقاعدہ سوگ منانا، ماتم کرنا یا خلافِ شرع کام کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر وفات کو 3 دن ہوچکے ہوں تو معمول کے مطابق عید کی خوشی اور دیگر کام کرنے چاہیئیں۔ چالیسویں اور پہلی عید وغیرہ تک سوگ منانے کی روایت غیر اسلامی ہے۔ صحابہ کرام بھی مُردوں کی تدفین اور تعزیت کرنے والوں کو رخصت کرکے حسبِ معمول اپنے کاموں
میں مشغول ہوجاتے تھے۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس گھر میں میت ہوئی ہو لوگ عید کے دن ان کے اہلِ خانہ کے پاس جا کر تعزیت کرنے لگتے ہیں، ان سے مرحوم کا بار بار ذکر کرکے ان کے غموں کو پھر تازہ کر دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ ان کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو اور کوئی بار بار آپ کو مرحومین کی یاد دلائے تو کیا دل چھلنی نہیں ہوگا؟ یہ ہر گز نہیں کہا جا رہا کہ مرحومین کے اہلِ خانہ کے پاس نہ جائیں۔ آپ ضرور جائیں ان کی خوشیوں میں شریک ہوں ان کو یہ احساس ہی نہ ہونے دیں کہ وہ کسی بڑے غم سے گزرے ہیں، بلکہ ان کو محبت سے، خلوصِ نیت سے عید کی خوشیاں منانے میں مدد کریں۔
یہ عقلی اعتبار سے بھی درست ہے اور انسانیت کی بہترین مثال بھی ہے۔
کچھ لوگ یوں بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ دیکھو ابھی باپ کو مرے دن کتنے ہوئے اور بچے تیار ہو کر گھوم رہے ہیں۔ خُدارا ایسے جملے ادا کرنے سے پہلے ان تکلیف زدہ دلوں کے حال پر رحم کریں، ان پر ترس کھائیں۔ اگر وہ اپنے غموں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کو زندگی میں دوبارہ لوٹنے کی طرف آمادہ کریں نا کہ ان کو اس طرح کی دلخراش باتیں بول کر تکلیف پہنچائیں۔
عید خوشیوں کا تہوار ہے، عید پر سب کو خوشی منانے کا حق ہے، سب کو خوشی منانے دیں۔ اس پر ایک دوسرے کو منفی جملے نہ کسیں بلکہ پیار و محبت سے سب کا دامن بھر دیں۔ وہ بچے جن کی ماں یا باپ کچھ ہی وقت قبل ان سے بچھڑے ہیں، ان کو محبت و شفقت سے عید کی خوشی میں شامل ہونے دیں۔