آج ایک بار پھر پشاور میں پہلے عیدالفطر منالی گئی یعنی کہ پاکستان میں اس مرتبہ بھی دو عیدیں منائی جائیں گی۔
پشاور میں دیگر پاکستان کی نسبت پہلے عید منانے کا رواج کئی سالوں سے چلا آرہا ہے۔ پوپلزئی خاندان جو کہ پشاور میں 193 سالوں سے عید کا چاند دیکھ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کے چرچے اس وقت بہت کیئے جاتے ہیں جب ان کے چاند نظر آنے کے اعلان اور پھر عید منانے کا فیصلہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے مختلف ہوتا ہے۔
پوپلزئی کون ہیں؟
پوپلزئی کا پورا نام مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کی اور بتایا کہ وہ کیا رائے رکھتے ہیں۔
مفتی پوپلزئی کے مطابق اصولاً پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہونی چاہیئے۔ انہوں نے پشاور کی مشہور جامعہ دارالعلوم سرحد سے تعلیم حاصل کی ہے۔ دارالافتا سے پانچ سال پڑھا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مفتی پوپلزئی نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا آغاز کب سے ہوا؟ مسجد مہابت خان، مسجد وزیرخان اور مسجد قاسم علی خان مغلیہ دور میں قائم ہوئیں۔ قاسم علی خان یہاں بطور گورنر کام کرچکے ہیں اور وہ ایک صحافی بھی تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے بزرگ یہاں پر1825 میں تشریف لائے۔ ابتدا ہی سے یہاں پررمضان المبارک اور عید کے لئے علما کے اجلاس ہوا کرتے تھے اور شہادتیں یہیں پر وصول کی جاتی تھیں اور انہیں شریعت کے ضابطوں کے مطابق قبول یا مسترد کیا جاتا تھا۔ تقریباً 92، 93 سال ہوگئے ہیں۔
مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے بتایا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آتی ہے کہ ہماری کمیٹی خاص طور پر رویت حلال کمیٹی کے خلاف تیار کی گئی ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ یہ سلسلہ 1825 سے چل رہا ہے۔ شہریوں کا ہم پر کافی بھروسہ ہے۔
ہمارے ہاں زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اوقاف ہال میں ہوتا ہے مگر وہاں کوئی نہیں جاتا۔ جس نے چاند دیکھا ہوتا ہے یا چاند کے حوالے سے کوئی معلومات چاہتا ہے تو وہ مسجد قاسم علی خان میں آتا ہے۔
ایک تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہییے کہ مخالفت برائے مخالفت کے لئے کوئی کمیٹی میں نے تشکیل نہیں دی۔ اس کو ہم کمیٹی کہہ تو رہے ہیں لیکن اس کا کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ ہر دور میں ہوتا آیا ہے کہ یہاں چاند دیکھنے کی رات ہوتی ہے۔ مقامی علما یہاں جمع ہوجاتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہمارے والد صاحب نے 1983 میں وفات پائی۔ اس کے بعد میری یہاں تعیناتی ہوئی ہے اس وقت صوبے کے مقتدر علما میں مولانا محمد ایوب بنوری تھے۔ وہ ہمارے شیخ ہیں۔ مفتی عبداللطیف تھے جن کا فتوی میرے والد صاحب کے بعد پورے صوبے میں مستند جانا جاتا تھا۔
مفتی حبیب الرحمن صاحب اور شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن صاحب تھے۔ اس سطح کے بڑے بڑے علما شریک ہوتے رہے ہیں اوریہ سارا عمل انہی کی زیرنگرانی چلتا رہا ہے۔
چاند دیکھنے کا طریقہ کار کیسا ہے؟
مفتی پوپلزئی نے بتایا کہ اس کا طریقہ کار وہی ہے جو شریعت کا ضابطہ ہے اس کے لیےضروری ہے کہ وہ شخص عاقل، بالغ اور مسلمان ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم نے ایک اور چیز کا اضافہ کیا ہے وہ یہ کہ جو شہادت کی خبر دے اس کے تزکیے کا بھی معلوم ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری انتظامیہ اس معاملے کو بہتر بنانے کے لئے اپنے علما کے ذریعے مساجد میں چاند دیکھنے کے حوالے سے پیشگی ترغیب دیتی ہے۔ بعدازاں جن کو چاند دکھائی دیتا ہے وہ اپنے مقامی عالم کو باخبر کرتے ہیں وہ پھر ہم سے رابطہ کرتے ہیں پھر ہم ان عالم یا پیش امام سے کہتے ہیں کہ وہ چاند دیکھنے والے کی شہادت کے لئے ان کے ساتھ آئیں۔ کوئی عالم یا پیش امام غلط آدمی کے ساتھ تو کبھی نہیں جاتا نا!
ہمیں اس نظام کے ذریعے گواہی دینے والے فرد کے بارے میں ہمیں پہلے سے علم ہو جاتا ہے کہ وہ کیسا ہے ؟ پھر جب اسے یہاں لایا جاتا ہے تو یہاں موجود علما اسے جانچتے ہیں اور گواہی قبول یا رد کرتے ہیں۔
آپ کی رویت ہلال پر کتنا خرچہ آتا ہے؟
معروف مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے اس حوالے سے کہا کہ نہیں، ہماری کمیٹی پر کوئی خرچہ نہیں آتا اورنہ ہی یہ ہماری آمدنی کا ذریعہ ہے۔یہ سب کام اللہ باری تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں۔