اریبہ دیکھ رہی تھی کہ ابو بیمار ہیں اس کے باوجود امی عیادت کے لئے آنے والے ہر
مہمان کے لئے چائے اور کھانے کا انتظام کررہی تھیں
اریبہ کے گھر میں اس وقت پیسے کی تنگی تھی۔ ابو کی بیماری کی وجہ سے دکان بھی بند تھی ایسے میں مہمانوں کے چائے ناشتے کا انتظام کرنے سے اس کی امی پر کیا گزر رہی تھی وہ خوب سمجھتی تھی۔
لوگ شادیوں میں رقم دے کر مدد کرتے ہیں تو عیادت میں کیوں نہیں؟
جبکہ آنے والے مہمان مزے سے ابو کی خیریت پوچھ کر لوازمات سے انصاف کرتے ور چلتے بنتے۔ ایسے میں اریبہ سوچتی ہی رہ جاتی کہ کتنا اچھا ہوتا کہ شادیوں میں لفافہ دینے کہ طرح عیادت کے لئے آنے والے بھی مریض کے گھر والوں کو تحفتاً کچھ رقم جاتے تو ان کی مصیبتیں کچھ تو کم ہوتیں۔
کیوں نا ایک نیا رواج اپنایا جائے؟
صرف اریبہ ہی نہیں اگر آپ خود بھی غور کریں کہ ہم جب کسی شادی بیاہ کی تقریب میں جاتے ہیں تو لفافے میں اچھی خاصی رقم ڈال کر دلہا دلہن کو دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت بری نہیں اور نئی زندگی شروع کرنے والے دلہا دلہن کو یقیناً پیسوں کی ضرورت بھی ہوتی ہوگی لیکن کیا ہی اچھا ہو جو ہم اس روایت کو اسپتال یا کسی بیمار کے گھر جاتے ہوئے بھی اپنا لیں اور عیادت کے لئے جاتے ہوئے مریض کے گھر والوں کو کچھ رقم دے دیں جن سے ان کی عزت نفس بھی قائم رہے اور مالی مشکلات میں بھی کمی واقع ہو۔