صابن میں دراڑ کیوں پڑ جاتی ہے؟ اگر آپ بھی ایسا صابن استعمال کرتے ہیں تو پہلے ایک بار اس کی حیران کن وجہ جان لیں

image

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوئی صابن خواہ کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو لیکن رکھے رکھے اس میں گہری اور نمایاں دراڑیں پڑ جاتی ہیں جو اکثر دیکھنے میں اتنی بری محسوس ہوتی ہیں کہ کچھ لوگ تو اس صابن کو دوبارہ استعمال کرنا ہی نہیں چاہتے. آج کے اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے کہ صابن میں یہ دراڑ کیوں پیدا ہوتی ہے اور کیا اس سے صابن کی کارکردگی میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ تو آئیے جانتے ہیں

صابن کن چیزوں سے بنتا ہے

صابن میں دراڑ پیدا ہونے کی وجہ جاننے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ صابن دراصل کن چیزوں سے مل کر بنتا ہے۔ دراصل نہانے والا صابن یعنی ٹوائلٹ یا بیوٹی سوپ جانور کی چربی یا پودوں کے تیل، سوڈیم ہائیڈرو آکسائڈ اور پانی سے ملکر بنتا ہے۔ مختلف برانڈز اپنے صابن کی شناخت کے لیے مخصوص خوشبویات اور تیل استعمال کرتے ہیں۔

برتن اور کپڑے دھونے والا صابن

اسی طرح اگر بات کی جائے برتن دھونے یا کپڑے دھونے والے صابنوں کی تو ان میں بیوٹی سوپس کے مقابلے میں زیادہ کیمیکلز موجود ہوتے ہیں اور تیل کی مقدار کم ہوتی ہے کیونکہ ان کا کام داغ اور چکنائی کو نکالنا ہوتا ہے۔

صابن میں دراڑ کیوں پیدا ہوتی ہے؟

اب آتے ہیں صابن میں پڑنے والی دراڑوں کی طرف۔ یہ دراڑیں دراصل صابن میں موجود تیل اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائڈ کی شرح کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔زیادہ تر دراڑیں صابن میں ایک بار پانی پڑنے کے بعد شدید گرمی سے نمی ختم ہونے کے بعد پیدا ہوتی ہیں۔

کیا دراڑ والا صابن جلد کے لئے نقصان دہ ہے؟

جہاں تک سوال ہے کہ کیا دراڑوں والا صابن جلد کے لئے مضر ہے تو عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ یوں تو اس کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہے مگر دراڈیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ صابن میں تیل اور چربی کی مقدار کم ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں میں خشکی ہوجاتی ہے کچھ لوگوں کے ہاتھ پر خشکی اور سرخی ہوجاتی ہے جس میں خارش رہتی ہے اس صورت میں ہاتھوں پر تیل یا لوشن لگایا جاتا ہے۔اگر آپ اس حوالے سے بہت زیادہ محتاط ہیں تو پی ایچ اسٹرپ کے زریعے صابن کا پی ایچ لیول چیک کر سکتے ہیں جو کہ 7 سے 10 کے درمیان ہونا چاہئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US