موسم گرما آتے ہی جس چیز کا سب سے زیادہ انتظار رہتا ہے وہ ہیں آم۔ جہاں پکے ہوئے آم ہر بچے بڑے میں مقبول ہیں وہیں کچے آم یعنی کیریاں بھی سب کو خوب بھاتی ہیں۔ کیریوں کا کھٹا میٹھا اچار، شربت، چٹنی اور سالن بھی بنایا جاتا ہے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیریاں ہماری صحت کے لئے کس قدر مفید ہیں۔
خون کی کمی کو دور کرے
کیریوں میں طبی خواص پکے ہوئے آم سے کہیں زیادہ موجود ہوتے ہیں۔ اس میں آئرن، پوٹاشیم، وٹامن اے اور بی کی موجودگی کی وجہ سے یہ خون بنانے میں اور نئے خلیات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ چہرے اور جسم کی پھیکی رنگت کی وجہ سے پریشان ہیں تو اس پھل سے آپ کو بہت مدد مل سکتی ہے۔
پیاس کی شدت کم کرتی ہے
کیری میں نمکیات وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ کیری پر نمک لگا کر چوسا جائے تو پیاس کی شدت اور جسم میں پانی کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے البتہ یہ علاج کا متبادل ہر گز نہیں لیکن شدید گرمی کے دنوں میں اس کو چوسنا یا کھانا فائدہ مند ہے۔
متلی یا قے
گرمی کے دنوں میں طبعیت متلانے کا مسئلہ بھی رہتا ہے جس میں کیری کا کھٹا میٹھا ذائقہ طبیعت کو تازگی بخشتا ہے۔ اس کا جوس یا شربت گرمی کو توڑنے کے علاوہ طبیعت کے بھاری پن کو بھی دور کرتا ہے۔
مثانے میں پتھری
مثانے میں پتھری والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے سے نہار منہ کیری کھانے سے مثانے کی پتھری میں فائدہ دیکھا گیا ہے۔
قبض
کیریاں آنتوں کے امراض بالخصوص قبض دور کرنے میں نہایت مددگار ہیں کیونکہ ان میں ریشہ بھی موجود ہوتا ہے جس سے دائمی قبض کے مریضوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ کیری کو شہد میں ڈبو کر کھانے سے قبض سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔