گرمی اتنی کہ بغیر آگ کے انڈہ فرائی ہو جائے ۔۔ پاکستان کا وہ مقام جہاں کی سخت گرمی انسان کو ختم کر سکتی ہے

image

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں گرمی کی شدت انتہا کو چھو چکی ہے، لیکن گرمی کی شدت انسان سمیت ہر چیز پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

پاکستان کا علاقہ اور سندھ کا شہر جیکب آباد گرمیوں میں ایسے تپتا ہے جیسے سورج خود زمین پر آجاتا ہے، آسمان پر سورج کی تپتی شعائیں انسان کی نگاہوں کو اوپر اٹھنے تک نہیں دیتی ہیں۔

جون جولائی سے پہلے ہی یہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سے اوپر چلا جاتا ہے، بادلوں کا نام و نشان نہیں ہوتا، اور نہ ہی سڑکوں اور گلیوں میں شہری دکھائی دیتے ہیں۔

جیکب آباد سندھ کا وہ شہر ہے جس کا نام 1847 میں انگریز جنرل جان جیکب نے رکھا تھا، جو کہ اسی ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر بھی تھے۔ جبکہ تاریخی مقامات میں وکٹوریہ ٹاور، میونسپل بروڈکاسٹنگ اسٹیشن، گورمنٹ کالج شامل ہیں۔

بلوچستان اور پنجاب کے بارڈر پر واقع اس شہر میں گرمی اپنے آب و تاب سے پڑتی ہے، گرمی کی شدت اس حد تک ہوتی ہے کہ یہاں اگر آپ فرائی پین کو تپتی دھوپ میں رکھ دیں اور پھر کچھ دیر بعد انڈے کو ڈالیں تو فرائڈ انڈہ تیار ہو جائے۔

گرمیوں کی دوپہر انسان سڑکوں سے غائب ہوتے ہیں جبکہ گھروں کے سہن اور آنگن میں چارپائیاں ڈال کر درختوں کے سائے میں لیٹ جاتے ہیں۔

بھینسیں شہر کی ندیوں میں ڈیرا ڈال لیتی ہیں اور پھر شام کے اوقات ہی واپس آتی ہیں، اسی طرح دیگر جانور بھی پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں، 50 ڈگری کو جب درجہ حرارت چھوتا ہے تو صورتحال کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ درخت بھی پانی کے لیے ترستے ہیں۔

پانی خود تپتی زمین پر خشک ہوتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے جاندار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برف کا استعمال، ٹھنڈے ٹھار شربتوں کا اور پھلوں کا استعمال اس موسم میں بڑھ جاتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US