دوسری عالمی جنگ شروع کروانے کا ذمہ دار ایڈولف ہٹلر کو سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ کرکٹ میچ نہ جیتنے پر پوری ٹیم کو موت کے گھاٹ اتارنے کا واقعہ بھی اسی شخص سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اکثر افراد نہیں جانتے ہوں گے کہ اپنی سنگدلی اور ظلم کے لئے مشہور اس شخص کو بھی کسی سے محبت ہوئی تھی اور کوئی اس سے بھی بے انتہا محبت کرتا تھا۔ وہ محبت اور اس کا انجام اور اس کی خودکشی۔۔۔ ایوا براؤن نامی لڑکی جو 6 فروری 1912 کو میونخ میں پیدا ہوئی وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایوا ہٹلر کے ساتھ برلن آ گئی تھی ۔ 29 اپریل 1945 کو ان دونوں نے دھوم دھام سے شادی کرلی تھی لیکن 30 اپریل 1945 کو جب سب لوگ ان کی شادی کا جشن منا رہے تھے تو گولی کی آواز نے سب کو چونکا دیا ، جب دولہا دلہن کے کمرے میں جا کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ ایوا نے زہرکھا کراورہٹلرنےگولی مارکرخودکشی کرلی تھی۔ ایوا نے 33 سال کی عمر میں اور ہٹلر نے 56 برس کی عمر میں اپنی جان دے دی۔ خودکشی کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ۔
ایوا اور ہٹلر کی ملاقات ایک فوٹو اسٹوڈیو میں ہوئی تھی ۔ ایوا 17 سال کی عمرمیں ہٹلرکےسرکاری فوٹوگرافر کے ہاں بطوراسسٹنٹ کام کرتی تھی۔ اس کی ہٹلرسے ملاقات بھی وہیں اکتوبر 1929 کو ہوئی۔ ہٹلرکی عمر اس وقت 40 برس تھی، وہ پہلی نظرمیں ہی ہٹلر سے متاثرہو گئی تھی ، ہٹلر کے بارے میں ایک بات اور بھی مشہور ہے کہ وہ اپنی سگی بھانجی سے محبت کرتا تھا، لیکن چونکہ یہ بات معیوب تھی اس لئے کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا۔ ایوا نے ہٹلرسے دوستی کی لیکن اس دوستی کو پہلے چھپایا گیا تاکہ اس کی خواتین ووٹراس بات کا برا نہ مانیں۔ لیکن ہٹلر کے مخالفین نے اس بات کو بھی اچھالا کیونکہ ایسی باتیں چھپتی نہیں ہیں۔ ہٹلر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اس دوستی سے پہلے ایوا کے بارے میں تمام چھان بین کروائی پھر اس سے دوستی کی ۔ ہٹلر کی بھانجی جیلی روبال جس پر وہ جان چھڑکتا تھا اس کی 18 ستمبر 1931 کو اس کی اچانک موت ہوگئی جس کا ہٹلر کو بہت صدمہ تھا،اسی لئے وہ اس صدمے میں ایوا سے بھی دور ہو گیا ۔ ایوا اس کی دوری برداشت نہ کرسکی اور 10 اگست 1932 کو اپنے والد کی پستول سے خود کو گولی مار لی لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گئی ، جب ہٹلرکو ایوا کی خودکشی کا پتہ چلا تو اس نے ایوا سے وعدہ کیا کہ اب وہ اس سے دور نہیں جائے گا۔ 1933 میں ہٹلر نے اس کے لئے پہاڑوں پر ایک گھرخریدا، جس کو 1936 تک شاندار محل کی صورت میں تیار کردیا گیا۔ ہٹلر ایوا سے محبت تو کرتا تھا لیکن اسے کسی اور کا ایوا سے ملنا پسند نہیں تھا اسی لئے اس نے اس جگہ پرعام لوگوں کا داخلہ ممنوع کردیا تھا۔ ہٹلر کو ایوا اس لئے بھی پسند تھی کیونکہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہٹلر جب اپنے کاموں میں مصروف ہوتا اور ایوا کے ساتھ نہیں ہوتا تھا تو وہ اس کو خط لکھتی تھی جو آج بھی محفوظ ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایوا ہٹلر کے ساتھ برلن آگئی جہاں ان دونوں نے 29 اپریل کو دھوم دھام سے شادی کر لی ۔ مگر 30 اپریل کو یہ شادی موت پر ختم ہوئی۔ اس محبت کا دردناک انجام آج بھی ایک معمہ ہے ۔ کہ شادی کے محض چند گھنٹوں بعد دونوں نے خود کشی کیوں کی۔ یہ معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 25اپریل 1945 کے بعد ہٹلر کی زندگی کا واحد مقصد اپنی موت کی تیاری کرنا تھا۔ 25 اپریل کو انھوں نے اپنے باڈی گارڈ ہینز لنج کو فون کیا اور کہا ’میں نے خود کو گولی مار لی ہے۔ تم میری لاش کو چانسلر کے باغ میں لے جاؤ اور اسے آگ لگا دو۔ میری موت کے بعد کوئی مجھے نہ دیکھے اور نہ ہی مجھے پہچان پائے۔ باڈی گارڈ کو انھوں نے مزید تاکید کی کہ ”اُس کے بعد تم میرے کمرے میں واپس جاؤ اور میری وردی، میرے کاغذات، ہر وہ چیز جو میں نے استعمال کی ہے اسے اکٹھا کرو اور اس سب کو آگ لگا دو۔ صرف انٹن گراف کی ’فریڈرک دی گریٹ‘ کی آئل پینٹنگ کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ میرا ڈرائیور میری موت کے بعد برلن سے بحفاظت باہر لے جائے گا۔" تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہٹلر 50 فٹ زیر زمین بنائے گئے ایک بنکر میں رہتے تھے۔ وہ چانسلر کے باغ صرف اس وقت جاتے جب انھیں اپنے پیارے کتے ’بلونڈی‘ کو ٹہلانا ہوتا۔ شاید روسی افواج کے ہاتھوں پکڑے جانے کا خوف ہی ہٹلر کی اس خودکشی کا سبب بنا۔