محکمہ صحت پنجاب میں 2019ء سے 2023ء کے دوران بڑی تعداد میں غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بھرتیاں بغیر اشتہارات اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت و آبادی نے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے کی غیر قانونی تقرریاں کیں، جبکہ 6 کروڑ 86 لاکھ روپے کی لاگت سے بغیر اشتہارات بھرتیاں کی گئیں۔ آڈٹ کے مطابق بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ، اشتہارات، انٹرویوز کی تفصیلات اور میرٹ لسٹس فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید یہ کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں 3 کروڑ 64 لاکھ روپے کی لاگت سے کنسلٹنٹس کو اسامیوں کے خلاف تعینات کیا گیا، جبکہ قانونی مشیر کی بھرتی پر 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے مگر مسابقتی عمل اختیار نہیں کیا گیا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔