پہلے جب کسی کے جسم میں چک پڑجاتی تھی یا ہڈیاں مڑجاتی تھیں تو لوگ ان کو صحیح طرح بٹھانے کے لئے کسی پہلوان یا ہڈی بٹھانے کے ماہر کے پاس جاتے تھے۔ البتہ اب مختلف ممالک میں اس علم کے باقاعدہ کورسز ہوتے ہیں۔"
جسم کے درد میں کمی اور خون کی روانی بہتر
یہ کہنا ہے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے کائروپریکٹر عامر شہزاد کا۔ عامر شہزاد کہتے ہیں کہ پاکستان سے باہر کھلاڑی تو ہر مہینے ہی اپنے جسم کی ٹیوننگ کے لئے کائروپریکٹک کرواتے ہیں اس سے جسم کا درد کم ہوجاتا ہے، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عام لوگ بھی 3 سے 6 مہینوں میں کائروپریکٹک کرواتے ہیں۔ اس ٹریٹمینٹ میں جسم کے حصوں پر دباؤ ڈال کر ان کو صحیح جگہ بٹھا دیا جاتا ہے۔ عامر شہزاد کے مطابق پاکستان میں غربت کی وجہ سے لوگ درد کا علاج کروانے کے بجائے اسے مسلسل جھیلتے رہتے ہیں جو صحیح نہیں ہے
خواتین بھی جوڑوں کے درد سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں
عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ گردن، کمر اور جوڑوں کے درد کے علاوہ خواتین بھی عرق النساء اور بچوں کی پیدائش کے بعد جسم میں ہونے والے مختلف درد سے نجات کے لیے یہ ٹریٹمنٹ کروا سکتی ہیں۔ عامر شہزاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ کائروپریکٹک کو فزیوتھیراپی سمجھتے ہیں جبکہ یہ دونوں مختلف طریقے ہیں۔ ہم 10 منٹ کے 6 سیشنز میں فوری نتائج دیتے ہیں جب کہ فزیو تھیراپسٹ ورزش اور مختلف تھیراپیز کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ طریقہ مقبول نہیں
پاکستان میں کائروپریکٹک کو طب کے شعبے میں مستند نہیں سمجھا جاتا۔ اگرچہ کافی لوگ اس طریقہ کار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر بہتر یہی ہے کہ اس ٹریٹمینٹ سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیں۔