ایسا لگ رہا تھا کہ ابو واپس نہیں آئیں گے ۔۔ منیٰ میں بھگدڑ مچنے کے واقعے میں شہید ہونے والوں کے گھر والوں نے کیا بتایا تھا؟

image

حج کے دوران پیش آنے والے بھگدڑ کے واقعات نے جہاں دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک افسردگی کی لہر پیدا کی وہیں کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جو ہر سال اس موقع پر افسردہ ہو جاتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسے ہی گھرانوں سے متعلق بتائیں گے۔

لاہور کے علاقے سمن آباد کے رہائشی میاں محمد ریاض بھی انہی شہداء میں شامل تھے جو کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

میاں محمد ریاض کے بیٹے طیب ریاض بتاتے ہیں کہ والد کی تیاریاں دیکھ کر یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے والد واپس نہیں آئیں گے۔ اس سال والد نہ صرف پُر امید تھے بلکہ پُر جوش بھی تھے کہ حج کر ہی لیں گے۔

میاں محمد ریاض انتہائی شریف انسان تھے خوش اخلاق ہونے کی وجہ سے ان کی خبر جب میڈیا پر آئی تو ہر اس شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے جس سے وہ اپنی زندگی میں مل چکے تھے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ زیب بھی انہی حاجیوں میں شامل تھے جن کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا۔

ڈاکٹر شاہ زیب کا تعلق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے تھا جبکہ وہ پیشے سے ایک ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر شاہ زیب کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ حادثے سے ایک روز پہلے ڈاکٹر شاہ زیب سے بات ہوئی تھی اس کے بعد سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔

جبکہ بیٹی کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی بھی مدد نہیں کر رہا ہے خدارا حکومت ہماری مدد کرے۔ اہلیہ کا کہنا تھا کہ شاہ زیب کے دوست اور رشتہ دار ہی مدد کر رہے ہیں حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ ڈاکٹر شاہ زیب کی گمشدگی سے متعلق اب تک کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے اگر خبر آئی بھی ہے میڈیا تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ امید ہے وہ اس واقعے میں خیر خیریت سے ہونگے۔ لیکن ڈاکٹر شاہ زیب کی فیملی کی طرح کئی ایسے گھرانے ہیں جو کہ آج بھی اس واقعے کو یاد کر کے افسردہ ہو جاتے ہیں

یہ انٹرویو 2015 کا ہے، جس کے بعد عین ممکن ہے ڈاکٹر شاہ زیب سے متعلق کوئی معلومات سامنے آئی ہوں، البتہ ہم ان فیملیز کا ذکر رہے ہیں جن کے پیارے اس سانحے عظیم میں لاپتہ ہوئے یا شہید ہو گئے۔ واضح رہے 2015 میں منیٰ واقعے میں 717 افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ہر سال یہ دن جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کے زخموں کو زندہ کرتا ہے وہیں اس بابرکت مہینے میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بے مثال قربانی کی یاد بھی دلاتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US