امام احمد بن حنبل نے فرمایا تھا کہ" ہمارے جنازے ہمارے حقانیت کی گواہی دیں گے" اور جب بغداد میں ان کا جنازہ اٹھا تو اس کی شان و شوکت دیکھ کر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس دنیا میں جو آیا اسے واپس ضرور جانا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی موت ان کی اچھائی اور نیکی کا راز فاش کردیتی ہے۔ یوں تواللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس شخص کا مقام اس کی نظر میں کیا ہے لیکن اگر امام احمد حنبل کے اس قول کو نقل کیا جائے تو اس کے حوالے سے ہم یہاں پاکستان کی تاریخ کے چند بڑے جنازوں کے بارے میں بتائیں گے جن میں لاکھوں افراد کی موجودگی ان کی لوگوں میں مقبولیت کی گواہی دے رہی تھی۔
غازی علم دین شہید
21 اکتوبر 1929 بروز جمعرات میانوالی جیل میں غازی علم دین کو گستاخِ رسول راج پال کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی اور پھانسی دینے کے بعد برطانوی حکومت نے جیل کے قبرستان میں بغیر نمازہ جنازہ کے بغیر دفنادیا گیا۔ جس پرمسلمانوں نے شدید احتجاج کیا، علامہ اقبال نے خود ان کے لئے مہم چلائی اور بالآخر15 دن بعد ان کے جسدِ خاکی کو دوبارہ قبر سے نکالا گیا تو ان کی میت بالکل تروتازہ تھی۔ ان کی نمازہ جنازہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی ،ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کہلاتا ہے۔ اس جلوس کی طوالت 5 میل لمبی تھی، ان کے جنازے میں شرکت کے لئے دور دور سے علماء اور مشائخ لاہور آئے تھے،اس جنازے میں تقریباً 6 لاکھ افراد نے شرکت کی، تدفین کے انتظامات کی سرپرستی علامہ اقبال،مولانا ظفرعلی خان اور مولانا دیدار علی خان نے فرمائی۔ علامہ اقبال اور مولانا دیدار نے ان کے جسد خاکی کو لحد میں اپنے ہاتھوں سے اتارا، مولانا ظفر علی خان نے اس پر کہا کہ "کاش یہ مقام مجھے ملا ہوتا"۔ جبکہ علامہ اقبال نے فرمایا "یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب سے بازی لے گیا"۔۔
سید الاحرار سید عطاءاللہ شاہ بخاری
مجدد تحریکِ ختم نبوت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے 21 اگست 1961 کوملتان میں انتقال ہوا۔ انہوں نے 50 برس قومی اور ملی خدمات میں گزارے، ان کی نمازہ جنازہ ان کے صاحبزادے مولانا ابو زربخاری نے پڑھائی، ان کے جنازے میں تقریباً 2 لاکھ افراد نے شرکت کی، ان کے جنازے کے اطراف میں 8 بانس لگادئیے گئے کیونکہ ہر شخص اس کو کندھا دینا چاہتا تھا۔ ایک میل لمبا جنازے کا جلوس تھا۔ ان کی وصیت کے مطابق قبرستان جلال باکری میں ان کو سپردِ خاک کیا گیا۔
مولانا احمد علی لاہوری
لاہور کی زمین میں بہت سارے ولی اللہ سوئے ہوئے ہیں انہی میں ایک شہرہ تفسیراحمد علی لاہوری بھی ہیں یہ 17 رمضان المبارک 1962 جمعہ کے دن سجدے کی حالت میں انتقال کر گئے۔ آپ نے برصغیر پاک و ہند کی مساجد اور مدرسوں میں دورہ تفسیرِ قرآن کا روایت ڈالی۔ انہوں نے لاہور میں مسلسل 40 سال درس قرآن کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی ہدایات کا سامان کیا۔ جنازے سے پہلے بھی ان کی وصیت کے مطابق پہلے درس دیا گیا اس کے بعد جنازہ ہوا، جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ آپ کو میانی صاحب قبرستان میں دفنایا گیا۔
جنرل محمد ضیاءالحق
جنرل محمد ضیاء الحق کا جنازہ 19 اگست 1988 کو فیصل مسجد میں پڑھایا گیا۔ ان کے جنازے میں تقریباً 10 لاکھ افراد نے شرکت کی، صدرضیاء الحق چیف آف آرمی اسٹاف بھی تھے اور ملک کے صدر بھی تھے۔ ان کی 17 اگست 1988 کو ایک پراسرار حادثے میں سی 130 طیارے کی تباہی کے نتیجے میں اپنے ساتھی کمانڈرز اور جنرلز کے ساتھ شہادت ہوئی ، ان کی آخری رسومات فیصل مسجد میں ادا کی گئیں اور اسی کے احاطے میں ان کی تدفین ہوئی ۔ لوگوں میں ان کی مقبولیت کا ثبوت ان کے جنازے میں خلقِ خدا کی دیوانہ وار آمد تھی ہر شخص آبدیدہ اور سوگوار تھا۔ ان کو 21 توپوں کی سلامی کے بعد لحد میں اتارا گیا۔
ممتاز قادری
ممتاز قادری کو 29 فروری 2016 کو سلمان تاثیر قتل کیس میں سزائے موت دے دی گئی۔ دوسرے دن یکم مارچ 2016 کو لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں لیاقت باغ میں ان کی نمازہ جنازہ ادا کی گئی ، تمام مکاتبِ فکر کے علماء اورافراد نے اس جنازے میں شرکت کی۔ افراد اتنے تھے کہ وسیع و عریض لیاقت باغ بھی چھوٹا پڑ گیا۔ تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔ 3 کلومیٹرتک صرف سر ہی سر تھے۔
جنید جمشید
پاکستان کے نامور نعت خوان جنید جمشید 7 دسمبر2017 کو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے میں شہید ہوگئے، جنید جمشید کی میت کو ائیر فورس کے خصوصی طیارے میں کراچی پہنچایا گیا جہاں ان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، ان کی میت کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اس جنازے کو کراچی کی تاریخ کا سب سے برا جنازہ کہا جاتا ہے۔ ملک کی مسلح افواج کے تینوں شعبوں کے اعلٰی عہدیداروں، کر کٹرز، علماء، اداکار، سیاستدان غرض ہر مکتبہ فکر کے اشخاص نے اس میں شرکت کی۔ جنازہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ ان کو کورنگی میں واقع جامع دارلعلوم میں سپرد خاک کردیا گیا۔
مولانا عبدالوہاب
مولانا عبدالوہاب تبلیغی جماعت کے سربراہ تھے۔ انہوں نے 80 سال دعوت و تبلیغ میں گزارے۔ نومبر 2018 کو 96 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر پہنچتے ہی لاکھوں افراد رائے ونڈ پہنچنا شروع ہو گئے۔ ان کا جنازہ شیخ الحدیث مولانا مفتی نذرالرحمن نے پڑھایا جواب تبلیغی جماعت کے نئے امیر بنے۔ اس جنازے میں تقریباً 10 سے 12 لاکھ افراد نے شرکت کی۔
علامہ خادم حسین رضوی
علامہ خادم حسین رضوی کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا بڑا جنازہ کہلایا جاسکتا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد لاکھوں لوگ شریک تھے ، ان کی میت صبح 9 بجے ایمبولنس کے ذریعے روانہ ہوئی لیکن لوگوں کے جم غفیر کی وجہ سے مینارِ پاکستان تک پہنچنے میں 4 گھنٹے لگ گئے۔ لوگوں کا رش اس قدر زیادہ تھا کہ مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ تک نہ پہنچ سکی اورآزادی فلائی اوور کے اوپرہی ایمبولنس کھڑی کر کے نمازادا کی گئی۔