دعا زہرا کیس تاحال جاری ہے اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد کیس کا فیصلہ مہدی علی کاظمی کے حق میں جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ مگر یہاں معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
میڈیکل رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد مہدی علی کاظمی کی جانب سے دوبارہ ظہیر احمد پر دعا کو اغواء کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
آج کراچی کی مقامی عدالت میں دعا زہرہ کے اغوا کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں ان کے مبینہ شوہر اور ملزم ظہیر احمد کے فون کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
آج عدالت کی سماعت میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو نے 15 سے 19 اپریل تک کے ملزم ظہیر احمد کے فون کی سی ڈی آر طلب کی۔
سماعت کے دوران ملزم ظہیر احمد کے وکیل بھی پیش ہوئے جبکہ عدالت نے تفتیشی افسر سے ضمنی چالان طلب کرتے ہوئے 20 جولائی تک سماعت ملتوی کردی۔
مہدی علی کاظمی کا بھی ویڈیو پیغام وائرل ہو رہا ہے جو انہوں نے ایک ویب چینل دستک ٹی وی کو دیا۔ جس میں وہ ملزم ظہیر کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے شکر ہے بیٹی کی میڈیکل رپورٹس بالکل درست آئیں ہیں۔ ان کی عمر 15 اور 16 سال کے درمیان اور 15 سال کے قریب آئی ہے۔
مہدی علی کاظمی نے کہا کہ کیس اب ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس میں مزید دفعات ہم شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جو ملزمان ہیں انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔ تاکہ آئندہ کوئی کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ اس طرح نہ کر سکے۔ دعا کے والد نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کئی فون کالز آرہی ہیں کہ صلح کرلیں جس پر انہوں نے کہ میں نے اس وقت صلح کی کوئی بات نہیں کی جب میری طرف سے کیس زیرو تھا۔
واضح رہے کہ منگل کے روز دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہو چکی ہے۔
درخواست گزار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میرج ایکٹ 2016 کے مطابق دعا اور ظہیر کی شادی غیرقانونی ہے اور عدالت دعا زہرا کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ دعا کو ظہیر احمد کی ’غیر قانونی حراست‘ سے بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کیا جائے اور اگر مغویہ کے ساتھ اگر جنسی زیادتی ثابت ہوتی ہے تو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔دعا کے والد نے عدالت سے استدعا کی کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر جانے سے بھی روکا جائے۔