لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر ججز کے خلاف مہم کے کیس کی سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے غیر قانونی ڈیجیٹل مواد کے خلاف اپنی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی ڈیجیٹل مواد کی نشاندہی کے بعد 10 لاکھ سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کر دیے گئے۔ فیس بک اور ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ کارروائی کی گئی۔ فیس بک پر 2 لاکھ 29 ہزار لنکس چیک کیے گئے جن میں سے ایک لاکھ 97 ہزار لنکس بلاک ہوئے۔ انسٹاگرام پر 43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے اور 38 ہزار لنکس بند کیے گئے، جس سے ویب سائٹس کی بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہی۔
ٹک ٹاک پر ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد غیر قانونی لنکس کی جانچ کی گئی، جن میں سے ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد ویڈیوز بلاک ہوئیں، جس کے بعد یہ پلیٹ فارم سب سے زیادہ سخت کریک ڈاؤن کا شکار رہا اور 94 فیصد مواد بلاک ہوا۔
یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ کے بعد 64 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے جبکہ ایکس/ٹویٹر پر ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس چیک کیے گئے اور 70 ہزار 800 لنکس بلاک کیے گئے۔
پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ اقدامات غیر قانونی اور نامناسب ڈیجیٹل مواد کی نشاندہی اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔