سامان تو چھین لوگے مگر کراچی والوں کی ہمت نہیں۔۔ ڈکیتی کا نشانہ بننے والے صحافی نے ویڈیو بنا کر ڈاکوؤں کو بھی للکار دیا

image

گذشتہ روز کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں لٹنے والے یو ٹیوبر، وی لاگر اور صحافی تنویر بہلیم نے ایک نئی وڈیو جاری کردی ۔ اس میں انہوں نے لٹیروں کو یہ پیغام دیا کہ تم ہماری قیمتی چیزیں ضرور لوٹ سکتے ہو لیکن ہماری ہمت نہیں چھین سکتے۔ کل ہم لٹنے کے بعد آج پھراسی جگہ موجود ہیں جہاں کل موجود تھے۔

یاد رہے گذشتہ روز تنویر بہلیم جو کہ یوٹیوبر اور صحافی ہیں وہ فیڈرل بی ایریا میں اپنی وڈیوریکارڈ کر رہے تھے کہ اچانک دو موٹر سائیکلوں پرسوار 4 مسلح افراد آئے اور سارا سامان لوٹ کر لے گئے اس سامان میں ان کے کیمرے، لینسس، مائک وغیرہ تھے جو کہ تقریباً 8 لاکھ روپے مالیت کے تھے۔ جس کے بعد تنویر بہلیم کی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وڈیو وائرل ہوئی اور اس پر عوامی سطح پر غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔ مختلف یوٹیوبرز اور صحافی تنظیموں کے علاوہ، عوام نے بھی گہرے دکھ اوریکجہتی کا اظہار کیا۔

تنویر بہلیم کی اس وڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ میری دو سال کی محنت میری تمام جمع پونجی لٹ گئی، اب میں کیا کروں گا۔ اس سے پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ دو تین دن پہلے ان کا موبائل چھن گیا تھا۔ لیکن ان سب پریشانیوں کے بعد بھی آج ان کی نئی وڈیو آئی جس میں انہوں نے اسی جگہ جاکراپنا فوڈ وی لاگ بنایا جس کو گذشتہ روز ادھورا چھوڑدیا تھا۔ اس میں انہوں نے تمام اسٹریٹ کرمنلز کو یہ پیغام دیا کہ "تم ہم سے ہماری قیمتی چیزیں چھین سکتے ہو لیکن کراچی والوں کا حوصلہ اور ہمت نہیں چھین سکتے۔ اب میرے پاس سامان نہیں کیمرہ نہیں، کسی دوسرے سے موبائل لے کر میں یہ وڈیو بنا رہا ہوں لیکن ہم اپنا کام کریں گے ضرور۔"

کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، لوٹ مار اور لوٹ مار کے دوران قتل و غارت گری کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ کراچی کے شہریوں کا باہر نکلنا دوبھر کردیا گیا ہے۔ اور یہ لوٹ مار کرنے والے کراچی کے مقامی نہیں ہیں۔ کراچی کے شہریوں میں اس حوالے سے غصہ اور بے بسی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ کہیں کوئی رینجرز یا پولیس فورس اس سلسلے میں کوئی کاروائی کرتی نظر نہیں آتی۔ جس کی وجہ سے کراچی کے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جارہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US