خواہش تھی کہ شہید ہو کر خُدا کے پاس حاضر ہو جائے ۔۔ ڈاکوؤں کے حملے سے جواں سالہ کانسٹیبل محمد اکبر شہید، حملہ کہاں ہوا؟

image

ہمارے فوجی جوان شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں اس لیے وقت اور حالات کوئی بھی ہوں وہ اپنی جان کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ رحیم یار خان پولیس کے جواں سالہ کانسٹیبل محمد اکبر کچے کے ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ جبکہ 4 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کا بھاری نفری کے ہمراہ علاقے کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق کانسٹیبل محمد اکبر اپنے ساتھیوں کے ساتھ گشت پر تھے کہ ڈاکوؤں نے چھپ کر پیچھے سے وار کیا جس کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے فوجی جوان آگے بڑھے۔ اس حادثے میں کتنے ڈاکو مارے گئے یہ اطلاعات تاحال موصول نہیں ہوئیں البتہ صرف کانسٹیبل محمد اکبر کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اکبر اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے ان کے ورثاء کہتے ہیں: " وہ ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ جب خدا کے سامنے کھڑا ہو تو شہیدوں کی فہرست میں نظر آئے، آج اس کا یہ خواب بھی پورا ہوگیا۔ "

کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں سے مقابلہ کے دوران شہید کانسٹیبل محمد اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی ایڈمن جنوبی پنجاب چوہدری محمد سلیم اور اے آئی جی ڈسپلن جنوبی پنجاب عمران شوکت بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کانسٹیبل کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی۔ حملے میں اے ایس آئی اعجاز النبی، کانسٹیبل اظہر حسین، نجم اور ڈرائیور نوید زخمی ہوئے ہیں۔

کانسٹیبل محمد اکبر 3 کم سن بیٹیوں عائشہ، فاطمہ، زہرہ اور 1 بیٹے احمد کے باپ تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US