اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا، سابق وزیراعظم نوازشریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں 10 سال اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزاء ہوئی تھی۔
مریم نواز کی سزا کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
جسٹس محسن اختر نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ملزمان کو تو کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا، یہ کیس تو آپ نے ثابت کرنا تھا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم صرف پبلک نالج یا کسی کی سنی سنائی بات پر فیصلہ نہیں سنا سکتے،آپ کا کیس شاید ٹھیک ہو مگر آپ اس کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مریم نواز پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں اس لیے ان پر اثاثوں کا کیس نہیں بنتا۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو 7 سال اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی، مریم نواز کو جرم میں معاونت کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی جبکہ ایون فیلڈ کیس میں ہی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔