عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر حکومت نے ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی برآمدات پر عائد ونڈ فال ٹیکس (اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی) میں نمایاں اضافہ کر دیا جبکہ پٹرول کی برآمد پر ڈیوٹی میں کمی کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ٹیکس نرخ 16 جولائی سے نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں ریفائننگ مارجن میں تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزل پر برآمدی ڈیوٹی 8.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 15.5 روپے فی لیٹر کر دی ہے، جبکہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ڈیوٹی 7.5 روپے سے بڑھا کر 14.5 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب برآمد کنندگان کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول پر ایکسپورٹ ڈیوٹی 4 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 2.5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان تنازع، عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے جس کے نتیجے میں ریفائننگ کمپنیوں کے منافع میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی تناظر میں حکومت نے ٹیکس پالیسی میں یہ تبدیلی کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ہر پندرہ روز بعد خام تیل کی قیمتوں اور ریفائننگ مارجن کا جائزہ لیتی ہے تاکہ مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی برقرار رہے اور غیر معمولی منافع کمانے والی کمپنیوں پر مناسب ٹیکس عائد کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نئے فیصلے سے نجی ریفائننگ کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑے گا، تاہم مقامی صارفین کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی کیونکہ اندرونِ ملک فروخت ہونے والے ایندھن پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔