پاکستان کی مشہور شخصیات تو بہت ہیں، لیکن جو اب بیٹیوں کے والد ہیں، وہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسے ہی والدین کے متعلق بتائیں گے۔
شاہد آفریدی اپنی بیٹیوں کو خوب سپورٹ کرتے ہیں، ان کے اس عمل سے نہ صرف صارفین خوش ہوتے ہیں، بلکہ انہیں ایک مثال کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔
شاہین شاہ آفریدی اور شاہد آفریدی کی صاحبزادی کے رشتے کے حوالے سے شاہد نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ الحمداللہ دونوں کر رشتہ کر دیا ہے۔
شاہد آفریدی نے بتایا کہ شاہین آفریدی کے گھر والوں نے کئی مرتبہ رشتے کی بات کی تھی، شاہین کے رشتے کے حوالے سے بیٹی سے پوچھا تھا، وہ پڑھنا چاہتی تھی۔ لیکن گھر کے بڑوں کا ماننا تھا کہ زندگی کا کچھ پتہ نہیں ہے، اسی لیے بڑوں کے کہنے پر منگنی کر دی۔
انشاء کی بات پکی ہونے پر والد خوش تو ہیں ہی ساتھ ہی بیٹی کی رخصتی کا سوچ کر جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔
ساتھ ہی بیٹیوں کو سپورٹ بھی کرتے ہیں، لیکن جب کبھی بیٹی بیمار ہو جائے تو خود شاہد بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان کی بیٹی جب بیمار تھی تو والد کے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ تھا۔
بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے محض شہادت سے 10 قبل اپنی بیٹی کو رخصت کیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے بطور والد اپنی بیٹی کے سر پر نہ صرف شقفت کا ہاتھ رکھا، بلکہ اسے قرآن کے سائے میں رخصت کیا تھا، لیکن کیا معلوم تھا کہ اب وہ بیٹی سے دوبارہ یوں نہیں مل پائیں گے۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ والد کے چہرے پر بیٹی کو لے کر جذباتی تاثرات واضح ہیں، مگر وہ خود پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔
محمد یوسف کا تعلق ایک مسیحی خاندان سے تھا مگر اسلام سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ پورے گھرانے نے نہ صرف اسلام قبول کر لیا بلکہ دعوت تبلیغ میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔
حال ہی میں محمد یوسف کی بڑی بیٹی کی شادی ہوئی ہے، اپنی بیٹی کی شادی کی خوشخبری کرکٹر نے مداحوں سے ٹوئیٹر پر شئیر کی تھی، محمد یوسف کا کہنا تھا کہ میری گڑیا تری رخصت کا دن بھی آ گیا آخر سمٹ آیا ہے آنکھوں میں تیرا بیتا ہوا بچپن ابھی کل کی ہی باتیں ہیں تو اک ننھی سی گڑیا تھی میرے آنگن میں ٹھہریں کی تری یادیں تری باتیں لو مبارک ہو تمہیں وقت سفر اب الوداع جاو بابل کے نگر سے اپنے گھر الوداع اے مری دختر مری نور نظر اب الوداع۔
یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس بیٹی کو وہ اپنی گود میں کھلایا کرتے تھے، ناز کرتے تھے آج اسی کے سر دست شفقت رکھ کر رخصت کر رہے تھے۔ محمد یوسف کی آنکھوں میں آنسوں اور دل میں بیٹی کی یاد تھی۔