ایران میں ملک گیر احتجاج کے دوران مذہبی مقامات پر حملوں اور کئی مساجد کو تباہ کرنے اور نذر آتش کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک تقریر میں دعویٰ کیا کہ ملک گیر مظاہروں کے دوران ’250 مساجد‘ تباہ کی گئی ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ’جامع مسجد ابوذر‘ کی تصویر جسے ایران کے ریاستی میڈیا کے مطابق ’دہشت گردوں‘ نے نذر آتش کیاایران میں ملک گیر احتجاج کے دوران مذہبی مقامات پر حملوں اور کئی مساجد کو تباہ کرنے اور نذر آتش کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔
17 جنوری (سنیچر) کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک تقریر میں دعویٰ کیا کہ ملک گیر مظاہروں کے دوران ’250 مساجد‘ تباہ کی گئی ہیں۔
انھوں نے اس عمل میں ملوث افراد کو ’دشمن فوج‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسے تخریب کاروں کا مشن مقدس مقامات، گھروں، دفاتر اور صنعتی مراکز پر حملے کرنا‘ تھا۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مطابق ’شر پسند تربیت یافتہ ایجنٹس‘ کی قیادت میں ’(معاشرے کے) جاہل عناصر‘ ان ’بُرے اعمال اور سنگین جرائم‘ میں ملوث ہوئے۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے میڈیا آزادانہ طور پر اِیسی مساجد کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا ہے جن پر حملے ہوئے یا جنھیں نذر آتش کیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ جن لوگوں نے مساجد کو آگ لگائی، انھیں ’ملک کے اندر اور باہر تربیت دی گئی تھی‘ اور یہ کہ وہ ’دہشت گرد‘ تھے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کرنے والوں کو غیر ملکی سکیورٹی اداروں سے منسلک ’فسادی‘، ’باغی‘ اور ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہو۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے ملک میں جلائی گئی مساجد کی تصاویر اور ویڈیوز وسیع پیمانے پر نشر کی ہیں۔ان میں صادقیہ فرسٹ سکوائر میں واقع مسجد امام صادق اور تہران کی ابوذر مسجد وغیرہ بھی شامل ہیں۔ حکومت نے ان کارروائیوں کو ’موساد کے کرائے کے فوجیوں‘ سے منسوب کیا ہے۔
فرانس کی یونیورسٹی آف لورین میں ماہر عمرانیات پروفیسر سعید پیوندی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’ابھی تک یقینی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ مساجد پر حملے مظاہرین نے کیے۔‘
اس ضمن میں پروفیسر پیوندی ماضی میں ایران میں مذہبی مقامات پر ہوئے حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ احتجاج جو ’سبز تحریک‘ کے نام سے جانا گیا، اس کے دوران بھی مظاہرین پر اسی طرح کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اُن کے مطابق سنہ 1994 میں مشہد میں آٹھویں شیعہ امام کے مزار پر جان لیوا بم دھماکے کے بعد ’ہم نے سکیورٹی کے حوالے سے ایسی ہی کہانیاں دیکھیں، لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ اُس وقت بم دھماکے کو مجاہدین خلق تنظیم سے منسوب کرنا بالکل غلط تھا۔‘
پروفیسر پیوندی کے مطابق اگر ایرانی حکومت اپنے دعووں کو درست سمجھتی ہے تو اسے ’غیر جانبدار افراد پر مشتممل ایک تحقیقاتی کمیٹی‘ بنانی چاہیے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک اور مسجد کی تصویر جسے نذر آتش کیا گیاعلی رضا مناف زادہ، جو فرانس میں تاریخ کے محقق اور مصنف ہیں، ایران میں مساجد اور مذہبی مقامات پر حالیہ حملوں کی نوعیت اور وسعت کو ایک ’نئی روایت‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ ناممکن نہیں کہ مظاہرین نے ایسے اقدامات کیے ہوں۔ ان کے مطابق لوگوں کی رائے ہے کہ مساجد ایران میں قائم جابرانہ نظام کی علامت ہیں۔ ’چونکہ عوام براہ راست اسلامی جمہوریہ کی طاقت سے برسر پیکار ہیں، چنانچہ وہ اُن سے منسلک اداروں اور علامتوں پر حملہ کرتے ہیں۔‘
گذشتہ 40 سال میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی علامت بن چکے ہیں۔ ریاست سے وابستہ کئی مساجد پاسدران انقلاب سے وابستہ بسیج ملیشیا کے مراکز کے طور پر کام کرتی ہیں۔
’مذہبی جذبات بھڑکانے کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کرنا‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے درجنوں ایسی مساجد کی تصاویر جاری کیں جہاں اُن کے مطابق مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور عمارت کے حصوں کو جلایاحکومت مساجد کی تباہی کا مسئلہ مظاہرین کے خلاف اقدام کے طور پر کیوں نمایاں کرتی ہے؟
پروفیسر پیوندی کا ماننا ہے کہ اس قسم کا ’حکومتی پروپیگنڈا‘ سب سے پہلے تو ایرانی حکومت کے ملک میں موجود اپنے حامیوں کے لیے ہوتا ہے، اور اُس خاموش گروہ کے لیے بھی جو ابھی تک اس احتجاجی تحریک کو دیکھ رہا ہے لیکن اس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسی کارروائیاں اجاگر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مخالفین کے خلاف ’مذہبی جذبات بھڑکائے جائیں‘ اور ’اُن کے مقاصد کو شیطانی قرار دیا جائے‘، یا ’مظاہرین کو مذہب مخالف یا غیر مذہبی قرار دیا جائے۔‘
جرمنی میں مقیم مذہبی سکالر حسن یوسفی اشکوری نے حکومتی سطح پر مذہبی جذبات بھڑکانے کو ’ایک آلے کے طور پر استعمال‘ کرنے کا حوالہ دیا اور بی بی سی کو بتایا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے مخالفین کو ’تباہ کرنے‘ کی کوشش کر رہی ہے اور انھیں ’اسلام، قرآن اور مساجد کا دشمن‘ بنا کر پیش کرتی ہے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ یکطرفہ نہیں ہے اور جس طرح اسلامی جمہوریہ کی جانب سے مذہبی جذبات بھڑکانے کے لیے مساجد کو استعمال کرنا غلط اور قابل مذمت ہے، اِسی طرح کسی بھی گروہ یا فرد کی طرف سے کسی بھی مقصد کے لیے مساجد کو تباہ کرنا یا نذر آتش کرنا بھی غلط اقدام ہے جس کے ’منفی نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔
حسن یوسفی اشکوری کے مطابق اگر یہ اقدامات مظاہرین نے کیے ہیں تو یہ ’اسلام دشمن رجحان‘ کی علامت ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’ایرانی معاشرے کا ایک بڑا حصہ مذہبی ہے، اور یہ مفروضہ کہ اسلام کو ایران میں مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے، تاریخی طور پر ایک بڑی غلط فہمی ہے۔‘
اس کے ساتھ ہی کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر مظاہرین نے مسجد یا مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ہے، تو ضروری نہیں کہ ان اقدامات کو مذہب پر حملہ سمجھا جائے بلکہ انھیں اس ادارے کے خلاف علامتی احتجاج سمجھا جا سکتا ہے جو اپنا آمرانہ تسلط جائز قرار دینے کے لیے مذہب کا استعمال کرتا ہے۔
ایک تصویر جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سعادت آباد کے علاقے میں میں مسجد کو نذر آتش کیے جانے کی ہےانقلاب سے پہلے مساجد پر ’عوام نے حملہ نہیں کیا‘
اسلامی جمہوریہ کے قیام سے پہلے بھی ایران کی مساجد معاشرے میں نمایاں کردار رکھتی تھیں اور کئی صورتوں میں انھیں اُس وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔
مناف زادہ کے مطابق رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت میں ترک سیکولر ازم کے ماڈل پر چلتے ہوئے ایرانی حکومت مذہبی تعلیم پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی تھی اور ’کسی نہ کسی طرح مذہب پر قابو پانا‘ اس کا مقصد تھا۔
اُن کا ماننا ہے کہ اگرچہ اسلامی جمہوریہ کے مؤرخین یہ الزام لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پہلوی حکومت میں مساجد پر حملے کیے گئے، حقیقت یہ ہے کہ بعض معاملات میں حکومت نے ’مساجد کی مدد‘ کی۔
تاریخ کے محقق مناف زادہ کے مطابق، محمد رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت میں مساجد ’کمیونسٹ کافروں کے خلاف لڑنے‘ کی جگہیں تھیں اور ’درحقیقت، محمد رضا شاہ کی نظر میں کمیونسٹ مذہبی لوگوں سے کہیں زیادہ خطرناک تھے۔‘
تاہم حسن یوسفی اشکوری کے نزدیک انقلاب سے پہلے مساجد کی تعمیر کو حکومت کی ’حمایت‘ یا ’حوصلہ افزائی‘ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ انقلاب سے پہلے اسلام کے پھیلاؤ اور بڑھتی آبادی کے تناظر میں مساجد کی تعداد میں اضافہ ’بالکل فطری‘ تھا۔
مناف زادہ کے مطابق انقلاب سے پہلے حکومت نے مساجد کو کبھی نشانہ نہیں بنایا، چاہے وہ مساجد حکومت کی حمایت یافتہ ہوں یا نہ ہوں۔
روایتی مقام کو جدوجہد اور نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا
ماہرین کے مطابق اپنے مستقل اور روایتی مقصد کے لحاظ سے ایران کی مساجد نے نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ پہلے انھیں صرف عبادت اور روحانی معاملات کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔
انقلاب سے پہلے بہت سے علما نے لوگوں کو حکومت کے خلاف اُکسانے کے لیے مساجد کا استعمال کیا۔ مثال کے طور پر اسلامی جمہوریہ کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے مشہد کی کرامت مسجد سمیت متعدد مساجد میں تقاریر کیں اور اُن کی تقاریر کا مواد حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنتا تھا۔
انقلاب سے پہلے کے ماحول اور ’سیاسی پابندیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے حسن یوسف اشکوری کہتے ہیں کہ اس وقت ’مساجد جدوجہد کا مرکز بن چکی تھیں‘ اور انقلاب کے بعد بھی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کے محاذوں پر فوج جمع کرنے اور مدد کرنے میں مساجد ہی جدوجہد کا بنیادی مرکز رہیں۔
تاہم، اگر ہم یہ مان لیں کہ دونوں ادوار میں مساجد ’جدوجہد کا مرکز‘ رہی ہیں، تو سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد مساجد کو دی جانے والی امداد انقلاب سے پہلے کی امداد کے برابر نہیں ہے۔
اسلامی جمہوریہ نے مساجد کی مدد کے لیے حکومتی ادارے قائم کیے ہیں اور غیر سرکاری مالی وسائل کے علاوہ سرکاری بجٹ منصوبوں میں بھی مساجد کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔
حسن یوسفی اشکوری اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں مذہبی معاملات کے علاوہ بھی ’مسلمانوں کے عسکری، سیاسی، یہاں تک کہ معاشی‘ معاملات کے لیے مساجد کا استعمال کیا جاتا تھا۔
تاہم، پروفیسر سعید پیوندی خبردار کرتے ہیں کہ ایسے کام، خاص طور پر جدید دور میں، مسجد کی سماجی حیثیت کو کمزور کرتے ہیں۔ ’مذہبی حکومت مساجد کے نیٹ ورک کو اپنی تنظیم کا حصہ بناتی ہے۔ مساجد کے امام حکومت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور مساجد حکومت کی پالیسی کو فروغ دینے اور حکومت کی حمایت کرنے کی جگہ بن چکی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلامی حکومت سے عدم اطمینان اور اس کی نااہلی نے معاشرے کے اہم حصوں اور مسجد کے درمیان دراڑ پیدا کر دی ہے۔‘
پروفیسر سعید پیوندی خاص طور پر اسلامی جمہوریہ میں حکومت اور مذہبی مقامات کے درمیان عسکری تعلق پر تنقید کرتے ہیں۔ ’حکومت سے منسلک فورسز کی سرگرمیاں مساجد سے ہی منظم کی جاتی ہیں۔‘
کچھ ایرانیوں کو ایسا لگتا ہے کہ مساجد اب تقدس کی علامت نہیں رہیں۔ سنہ 2023 کی سی این این کی ایک رپورٹ میں مہسہ امینی تحریک کے احتجاج میں استعمال ہونے والے خفیہ حراستی مقامات کا انکشاف ہوا تھا جن میں سے کچھ مساجد بھی تھیں۔ متعدد ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ مشہد شہر سمیت قیدیوں کو ان جگہوں پر رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مدارس پر ’علامتی‘ حملے
حالیہ مظاہروں میں مساجد کے ساتھ ساتھ دینی مدارس پر حملوں کی خبریں بھی آئیں۔ سعید پیوندی کا ماننا ہے کہ ایسے حملے ’بہت علامتی ہیں اور کم از کم معاشرے کے ایک اہم حصے اور مذہبی حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘
کچھ علما ایران کی موجودہ صورتحال کا موازنہ تاریخ کے ان ادوار سے کرتے ہیں جب احتجاج کرنے والے لوگ مذہب اور طاقت کے گٹھ جوڑ سے ناخوش تھے۔
نواف زاده کہتے ہیں کہ ایران میں مساجد پر حملے کا موازنہ انقلابیوں کے گرجا گھروں پر حملے اور انقلاب فرانس کے دوران مذہبی علامات کی تباہی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ حملے ’بادشاہت، جاگیر داری، اور مذہب کے خلاف جنگ‘ کے نام پر کیے گئے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لفظ ’وینڈلزم‘ (تباہی یا توڑ پھوڑ) مذہبی پیشوا ہنری گریگوار نے ایجاد کیا تھا، جو ایک انقلابی تھے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق چرچ کو ریاست کے تابع کر دیا گیا۔ نواف زادہ کے مطابق ’انقلابی چاہتے تھے کہ مذہبی انتہا پسندی ختم کی جائے اور مذہب کو ریاست کے ماتحت دیا جائے۔‘
سنہ 1905 میں فرانس میں قانون لائسیٹے منظور ہوا جو مذہب اور ریاست کو الگ کرنے کی بنیاد بنا، لیکن ساتھ ہی مذہبی عمارات اور اداروں کی حفاظت حکومت کے سپرد کی گئی اور اب فرانس میں مظاہرین اپنی مخالفت ظاہر کرنے کے لیے مذہبی مقامات پر حملے نہیں کرتے۔
کیا ایران میں بھی افراد اور مذہبی مقامات کے درمیان اس طرح کی مفاہمت کا دوبارہ سوچا جا سکتا ہے؟ حسن یوسفی اشکوری کہتے ہیں کہ مذہبی حکومت کے تحت تمام شہریوں، بشمول دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں ’قانونی مساوات‘ قائم کرنا ممکن نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی جمہوریہ کو زوال آتا ہے اور مستقبل کی حکومت ایسی مساوات پر قائم رہے تو ’مذہب اور مذہبی مقامات کا تقدس بھی برقرار رہے گا۔‘