ہر مسلمان کی یہ خواہش ابھرتی ہے کہ زندگی میں اسے بھی کبھی نہ کبھی اللہ کے گھر یعنی خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے۔ مگر اللہ جب جسکو چاہے اپنے گھر بطور مہمان بلانے کی توفیق عطا یہ اس کی مرضی ہے۔
خانہ کعبہ سے متعلق بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہاں کے قوائد و ضوابط کی پاسداری ہر شخص کے لیے تسلیم اور اس پر عمل کرنا لازم عمل ہے۔
ایک اُصول کعبتہ اللہ کا یہ بھی ہے کہ بیت اللہ کی چھت پر نماز کیوں نہیں پڑھی جا سکتی۔ اس بات کا جواب کئی افراد کو معلوم نہیں مگر اس حوالے سے ہم آپ کو مفتی منیب الرحمان کے ریفرنس سے بتائیں گے۔
نبی کریم ﷺ کے خصائص کے سبب اللہ تعالیٰ نے امت مصطفیٰ ﷺ کے لیے تمام روحِ زمین کو پاک کیا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ' اور میرے لیے تمام روحِ زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا اور میری امت میں سے جو شخص کہیں بھی نماز کا وقت پائے وہیں نماز پڑھ لے۔
بعض مواقع پر حکمت اور بعض مقامات پر نماز کے تقدس کی خاطر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ ترمزی شریف 346 کے مطابق کوڑے خانہ ،ذبح خانہ، قبرستان، عام گزرگاہ (شارع عام)، حمام ،مویشی خانہ اور بیت اللہ کی چھت پر نماز ادا نہیں کر سکتے۔
ان میں سے بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے ممانعت کا سبب بیت اللہ کا ادب واحترام ہے ،شارع عام پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا سبب عام لوگوں کے لیے دشواری پیدا ہونا اور لوگوں کے آنے جانے کے حق (حقِّ مُرُور)میں رکاوٹ بننا ہے ،قبرستان میں اگر قبر کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی جائے (یعنی مقامِ سجدہ کے آگے قبر ہو ) تو بت پرستی سے مشابہت کی بناء پرحرام ہے اور باقی مقامات پر ناپاکی کا احتمال ہے اور وہاں پر نماز پڑھنا نماز کی تقدیس کے منافی ہے۔
جامعہ العلوم السلامیہ کے مطابق کعبۃ اللہ کی چھت پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، کیوں کہ جس مقام پر کعبۃ اللہ ہے وہ زمین اور اس کی سیدھ میں اوپر آسمان تک قبلہ ہے ، قبلہ کعبہ کی دیوار اور چھت پر محدود نہیں، بلکہ ان چاروں دیواروں کے برابر آسمان تک قبلہ ہے ، اس لیے اگر کوئی شخص ہوائی جہاز میں کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرےگا تو نماز ہوجائے گی۔ لیکن کعبۃ اللہ کی چھت پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی صورت میں کعبۃاللہ کی بے احترامی ہوتی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لیے مکروہِ تحریمی ہے۔