اسلام مذہب میں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری پر زور دیا گیا ہے اور خاص طور اس وقت جب ماں باپ بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچیں۔
ورنہ اگر غیر مسلموں کو دیکھا جائے تو وہ اپنے بوڑھے والدین کا بوجھ برداشت نہیں کرتے اور انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ یہاں ہم اپنے والدین کی خدمت گزاری کر کے ان کی دعائیں لیتے ہیں جو کہیں نہ کہیں ہماری بخشش کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک ایسی ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل جس میں ایک شخص کو اپنے والد کے پاؤں کا مساج کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور جس نے ویڈیو بنائی وہ ان شخص کا بیٹا ہے جو اپنے بوڑھے والد کے پاؤں پر مساج کرنے اور دبانے میں مصروف ہیں۔
ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے صارف/ بیٹے نے کیپشن بھی بہت خوبصورت بھرے الفاظ میں لکھا ہے۔ صارف نے ویڈیو پوسٹ پر لکھا کہ یہ ویڈیو میں نے اپلوڈ کی ہے یہ جان کر ابا جان مجھے سخت ڈانٹنے والے ہیں۔
یہ میرے والد صاحب ہیں جو احتراماً میں پاؤں چھو رہے ہیں یا اپنے والد کو مساج دیتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔یہ ان کی روزمرہ کا کام ہے۔
یہ پوسٹ کرنے کی وجہ اس فانی دنیا سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اپنے والدین کو اپنے پیاروں کو وقت دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہم دن بہ دن بوڑھے ہو رہے ہیں اسی طرح ہمارے والدین بھی۔ یہ ہضم کرنے کے لیے ایک کڑوا سچ ہے۔ جلد یا بدیر آپ کو وہ مل جائے گا جو آپ چاہتے ہیں لیکن یہ لمحات کبھی واپس نہیں آئیں گے۔زندگی میں توازن رکھیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔