اویس لغاری کی ورلڈ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے وفود سے ملاقات، پاور سیکٹر اصلاحات پر پیش رفت

image

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ورلڈ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے اعلیٰ سطح کے وفود نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ورلڈ بینک کے وفد کی قیادت عثمان ڈیون جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد کی قیادت ڈاکٹر رامی احمد کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر توانائی نے وفود کو بجلی کے شعبے میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دی۔

اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار، مؤثر اور دیرپا اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری توانائی کے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ IGCEP سے مہنگے بجلی منصوبوں کو نکالنے کے نتیجے میں صارفین کو 17 ارب ڈالر تک کا ممکنہ ریلیف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام شعبوں میں جامع اصلاحات جاری ہیں جس کے باعث تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلیوں میں 197 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔

اویس لغاری کے مطابق گردشی قرضے میں 780 ارب روپے تک کمی حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلے پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ترسیلی نظام کی رکاوٹیں دور کرنے اور خودکار میٹرنگ کے نفاذ پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے ریلیف پیکجز سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا جبکہ کیپٹو پاور پلانٹس کو قومی گرڈ میں منتقل کرنے سے مجموعی نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکٹرک وہیکلز کے لیے خصوصی ٹیرف ریلیف کو ماحول دوست پالیسی کا حصہ قرار دیا۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ہول سیل بجلی مارکیٹ کی آزادی سے مسابقت اور شفافیت کو فروغ ملے گا جبکہ پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ ملک کی توانائی سلامتی کی مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی اداروں کی تنظیمِ نو کے ذریعے کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور صاف و قابلِ تجدید توانائی پاکستان کے توانائی مستقبل کی ضمانت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر ورلڈ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے وفود نے پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US