وقت کس وقت پلٹ جائے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، لیکن سب کے لیے حیرت کا باعث ضرور بن جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر مین آپ کو ایک ایسے ہی واقعے کے بارے میں بتائیں گے۔
قاری عبدالمتین اصغر کا شمار پاکستان کے ان چند شخصیات میں ہوتا تھا، جو کہ جب بھی اپنی خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور پھر اس کا ترجمہ لوگوں کو تک پہنچاتے تو لوگ خوب دلجوئی سے سنتے۔
قاری عبدالمتین لاہور کے علاقے بیگم کوٹ میں ایک محفل سے خطاب کر رہے تھے جہاں صحابہ کی شان اقدس بیان کی جا رہی تھی، اسی محفل کے مہمان خصوصی مشہور علامہ ہشام الٰہی ظہیر بھی تھے۔
دوران خطاب جب قاری عبدالمتین نے قرآن میجد کی تلاوت کی تو محفل میں ایک ایسا سماں بندھ گیا تھا، کہ ہر ایک شخص صرف قرآن کی تلاوت ہی سُن رہا تھا۔
اس کے بعد قاری عبدالمتین نے ترجمہ بھی بیان کیا، اور اسی دوران شاید انہیں اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا جب ہی انہوں نے سر سے ٹوپی بھی اتار دی۔
تاہم تلاوت کو جاری رکھا، لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ خطاب کے دوران ان کی زبان لڑکھڑائی اور یوں معلوم ہوا کہ جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا ہو، جو کہ لڑکھڑائے ہوں، تب ہی ان کا چہرا مائیک کو بھی لگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے ہوش ہونے لگے اور پھر ان کے چاہنے والوں نے انہیں سنھبالا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اچانک وہ لڑکھڑائے اور پھر سنبھل نہ سکے۔
بعدازاں علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے قاری صاحب کے انتقال کی خبر سنائی، جبکہ ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ کافی دنوں سے بیمار تھے۔