سوشل میڈیا پر ان دنوں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم خان سواتی کافی چرچہ میں ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو انہی کے بارے میں بتائیں گے۔
پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھنے والے اعظم خان سواتی مانسہرہ میں 22 جون 1948 کو پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔
سیاسی طور پر کافی متحرک رہنے والے اعظم خان سواتی نے ہاسٹن یونی ورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی جو کہ قانون کی ڈگری ہوتی ہے۔ جبکہ کراچی میں بطور وکیل بھی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اعظم سواتی بطور مانسہرہ ناظم اس عہدے پر رہ چکے تھے، سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق اپنے دور میں انہوں نے سرکاری گاڑی اور تنخواہ تک نہیں لی۔ تاہم اس حوالے سے پاکستانی میڈیا میں مصدقہ خبر نہیں ملی۔
دوسری جانب اعظم خان سواتی سیاست کے علاوہ کاروباری شخصیت بھی ہیں، جے یو آئی ایف میں اعظم خان سواتی سیاسی خدمات کی بنا پر بھی جانے جانے لگے، تاہم پھر پاکستان تحریک انصاف کا بھی حصہ بن گئے۔
دوسری جانب حج اسکینڈل کیس میں اعظم خان سواتی کا نام سامنے آیا تھا، اس وقت اعظم خان جمیعت علمائے اسلام ف کے رہنما تھے۔
ڈان کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے امیر ترین سینیٹرز میں اعظم خان سواتی کا پہلا نمبر تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعظم خان سواتی کے اثاثوں کی مالیت 1 اعشاریہ 84 بلین روپے ہے، جو کہ 1 ارب سے زائد کی رقم بنتی ہے۔
جبکہ پاکستان سے باہر امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں کُل 10 پراپرٹیز کے مالک ہیں۔ بیرون ملک اثاثہ جات کی قیمت 502 ملین روپے سے زائد کی ہے، ساتھ ہی ساتھ سینیٹر کا 448 اعشاریہ 8 ملین روپے کا کاروبار بھی موجود ہے، یہ رپورٹ ڈان کی جانب سے پبلش کی گئی تھی۔
امریکہ میں رہائش کے دوران اعظم خان سواتی نے سماجی کاموں میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق اعظم سواتی کا رئیل اسٹیٹ کا بھی کاروبار ہے، ہول سلیز بزنس اور فیول ڈسٹریبیوشن کا بھی کاروبار ہے۔