دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جو کہ انسانیت سے ہمدردی اور دوسروں کے لیے کچھ کرنے گزرنے کی وجہ سے مقبول ہو جاتے ہیں۔
ایک ایسے ہی والد کے بارے میں آپ کو بتائیں گے جو کئی بچوں کا والد ہے۔
ایشیاء کے سب سے بڑے یتیم خانے میں جہاں نہ صرف بچوں کی پرورش کی جاتی ہے بلکہ انہیں بہترین ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے شہر میر پور، کشمیر میں موجود "کورٹ" کے نام سے موجود یہ یتیم خانہ اس لیے مقبول ہے کیونکہ یہاں فارم کی گائیں بھینسیں بھی ہیں، باغات بھی اور کھیلنے کے لیے میدان بھی۔
اس منفرد اور انسانیت کی راہ میں اہم قدم اٹھانے والے محمد اختر کا خواب تھا کہ وہ ان یتیم بچوں کا سہارا بن جائیں جنہیں ان کے والدین کسی بھی وجہ سے اپنے سے الگ کر دیتے ہیں۔
اس یتیم خانے میں 300 سے زائد بچے موجود ہیں، جن میں نوزائیدہ سے لے کر چھوٹی عمر کے بچے شامل ہیں۔
یہاں موجود یتیم بچوں کے اپنے کپڑے ہیں یعنی ایسا بالکل نہیں ہوتا ہے کہ کسی دوسرے بچے کے کپڑے کسی دوسرے کو پہنائے جاتے ہوں، اسی طرح ہر بچے کو روانہ نشونما کے لیے دودھ کا گلاس بھی دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب اسی یتیم خانے کی جانب سے ایک کھیل کا میدان بھی بنایا جا رہا ہے جو کہ بچوں میں جسمانی نشونما کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔
ساتھ ہی یہاں موجود باغات جہاں کئی مختلف طرح کے پھل خود ہی اگائے جاتے ہیں وہ بھی یہی پلنے بڑھنے والے یتیم بچوں کے لیے ہیں۔
مخیر حضرات گندم کی بوریاں سالانہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ انتظامیہ کے پاس گندم کو آٹے میں تبدیل کرنے کی مشین بھی نوجوڈ ہے جس کی مدد سے وہ ایک خالص اور صحت بھرپور خوراک ان بچوں کو فراہم کرتی ہے۔
یہاں موجود بچے سڑکوں، نامعلوم مقامات سے لائے جاتے ہیں، جن کے والدین خود اپنے لخت جگر کو چھوڑ جاتے ہیں۔
جبکہ محمد اختر ان تمام بچوں کو والد پیار دیتے ہیں، محمد اختر نے ان بچوں کو اپنی اولاد تسلیم کر لیا ہے ان کی آنکھوں میں بھی ان بچوں کے لیے محبت اور شفقت کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں نے سربراہ کو اپنا والد تسلیم جر لیا ہے جب ہی تو جیسے ایک بچہ اپنے والد کی گود اور چہرے کو پہچان لیتا ہے ایسے ہی یہ بچے سربراہ کو دیکھ کر محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ خونی رشتہ تو نہیں رکھتا ہے مگر یہ شخص بہت خاص ہے۔