گزشتہ دنوں جہاں مشہور عالم دین اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کی وفات نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کو اشکبار کر دیا تھا وہیں ان کی چند دلچسپ عادتوں نے سب کی توجہ حاصل کر لی تھی۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
مفتی رفیع عثمانی کا تعلق اُس گھرانے سے تھا، جہاں مذہبی تعلیم سمیت دنیا تعلیم کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، یہی وجہ تھی کہ اس گھرانے سے تمام ہی چشم و چراغ اس ملک کی اہم شخصیت کے طور پر سمانے آئے۔
مفتی رفیع عثمانی کے بھائی مفتی تقی عثمانی بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے اخلاص، افہام تفہیم اور بہترین اقدامات کی بنا پر مقبول ہیں۔
دارالعلوم کراچی کے سربراہ 1936 میں بھارتی ریاست اترپردیش کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، ان کے طالب علموں کے مطابق مفتی عثمانی نے 1948 میں قرآن مجید حفظ کیا اور پھر اپنے والے کے ادارے سے درس نظامی کی ڈگری حاصل کی۔
مفتی رفیع عثمانی تدریس اور تعلیم کے پیش سے منسلک ہو گئے اور اسلام کی تعلیم کے حوالے ایک بڑا نام ثابت ہوئے۔
والدین کی آنکھ کا تارا اور دُلارا اس حد تک تھے، کہ والدین اپنے بڑے مفتی رفیع عثمانی کی ولادت بھی پھولے نہیں سما رہے تھے۔ بیٹے کی پیدائش پر خوشی تو اپنی جگہ تھی تاہم چشم و چراغ نے بھی گھر والوں اور والدین کا سر ہمیشہ فخر سے اونچا کیے رکھا۔
یہی وجہ تھی کہ جب والدین کی وفات ہوئی تو مفتی رفیع عثمانی والدین کی وفات پر خاموش ضرور ہوئے تاہم انہیں اس بات پر بھی ایمان تھا کہ ایک نا ایک دن سب ہی نے جانا ہے۔
آج مفتی رفیع بھی اپنے والدین کے پاس چلے گئے ہیں، کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ مفتی رفیع عثمانی اپنے والدین کے درمیان موجود ہوں گے، ان کی آخری آرامگاہ بھی والدین کی قبروں کے درمیان موجود ہے۔