اسلام آباد: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی رواں ماہ کے آخر میں ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کی کمان سنبھالنے کیلئے نئے سربراہ کیلئے وزارت دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سینیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر افسران کی فہرست بھجوادی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کو نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتیوں سے متعلق سمری موصول ہوگئی اور سمری میں تمام افسران کی تفصیلی پروفائل بھی شامل کی گئی ہے۔
وزیراعظم سمری میں موجود ناموں میں سے نئے آرمی چیف اور چیئرمین کا انتخاب کریں گے، آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری ایک ساتھ ہو گی۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ پاک فوجی کی سینیارٹی لسٹ میں اس وقت کون کون سے افسران شامل ہیں۔
پاک فوج کی سینیارٹی لسٹ میں اس وقت سب سے اوپر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نمبر ہے لیکن موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہے تاہم عسکری ماہرین کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کے لیے انھیں دو دن کی توسیع یا موجودہ آرمی چیف کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہو گی۔
ٹین کور یعنی راولپنڈی کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا چیف آف جنرل اسٹاف تعینات رہنے کے علاوہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر بھی کام کیا اور بطور میجر جنرل ڈیرہ اسماعیل خان کی اس ڈویژن کی کمان کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔ اگر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو تعینات نہیں کیا جاتا تو وہ بھی موجودہ قیادت کے ساتھ ریٹائر ہوجائینگے جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا پاک فوج کے سب سے سینئر افسر ہونگے۔
بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری اسکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔
سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں بعد میں انہوں نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمودآئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے اور ٹین کور کی کمانڈ بھی کرچکے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا سینیارٹی لسٹ میں چوتھا نمبر بنتا ہے۔
پاک فوج کی سینیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل محمد عامرکا نام آتا ہے۔ پاک فوج میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل اسٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔اس وقت اس وقت گجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر کا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ اس وقت کور کمانڈر ملتان کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدربطور بریگیڈیئر ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے ۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔