16 دسمبر 2014، پاکستان سمیت دنیا بھر میں سب کو افسردہ کر گیا تھا، کیونکہ اسی دن جہاں پاکستان سے بنگلادیش الگ ہوا وہیں اسی تاریخ کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں 100 سے زائد بچے شہید کیے گئے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں کئی گھروں کے چراغ بجھ چکے تھے، پشاور کی ہر دوسری گلی میں ایک جنازہ تھا، یہاں تک کہ کچھ گھر تو ایسے بھی تھے جہاں ایک سے زائد جنازے اٹھے۔
تاہم اس سب میں پاکستانیوں نے خوب اتحاد اور بھائی چارگی کا مظاہرہ کیا، صبر و تحمل اور یکجہتی کی ایسی مثال جس نے سب کو جذباتی کر دیا۔
اسی دن پشاور کی 6 سالہ خولہ بی بی کا بھی اسکول ک پہلا دن تھا جو کہ آخری دن ثابت ہوا، خولہ اپنے والد کے ہمراہ اسکول کے پہلے دن پہنچی تھی، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی والدہ اسے آخری بار اتنے لاڈ اور پیار سے الوداع کر رہی ہے اور جب بیٹی واپس آئے گی تو لہو میں لت پت ہوگی۔
خولہ جیسے کئی ننھے پھول تھے جو اسی طرح اپنے والدین سے بچھڑ گئے، اس سب میں دادا دادی، کا تو حال ہی بُرا تھا، جو کہ اپنے ننھے پوتے پوتیوں کا جنازہ دیکھ رہے تھے، خیال یہی تھا کہ ننھے پوتے پوتیاں ہمارا جنازہ دیکھیں گے، مگر اس ہولناک منظر نے انہیں مزید کمزور کر دیا تھا۔
ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس نے ظالم، سفاک دہشت گردوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس قوم کے بچے بھی اتنے بہادر ہیں۔ چھوٹی عمر کے اس بچے کا نام شیر شاہ ہے، شیر شاہ نام ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کس حد تک بہادر ہوگا۔
تاہم شیر شاہ بھی آرمی پبلک اسکول کے زخمیوں میں شامل تھا جس نے سینے میں 4 گولیاں کھائی تھیں، اس سب میں شیر شاہ کو جب اسپتال لایا گیا تو آخری وقت تک شیر شاہ کے یہی الفاظ تھے کہ سر پلیز میرے بجائے میرے اُن دو دوستوں پر توجہ دیں، جو شدید زخمی ہیں۔ یہاں تک کہ تکلیف کے باوجود شیر شاہ کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہیں تھا۔
ایک اور شہید اسفند خان کی والدہ اب اپنے آپ کو پہچان ہی نہیں پاتی ہیں، کیونکہ بیٹے کی شہادت کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل چکی ہے۔
اسفند کی والدہ شاہانہ اجون نے جیو نیوز کو انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتی ہوں۔ میں اکثر شیشے میں دیکھتی ہوں تو اپنے آپ کو پہچان ہی نہیں پاتی ہوں، میں اس طرح بات نہیں کرتی تھی، اس طرح سوچتی نہیں تھی۔
اسفند کی والدہ کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ آج تک ان کی آنکھیں بیٹے کی تلاش میں ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ مجھے بتایا جاتا ہے کہ تم مت رویا کرو، شہید کی مائیں روتی نہیں ہیں، تمہیں مسکرانا چاہیے۔ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں، اگر میرے بیٹا بھی زندہ ہے تو مجھے دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ والدہ کے چھبتے ہوئے سوالوں نے کئی آنکھوں کو اشکبار کر دیا تھا۔
جبکہ ایک تصویر ایسی بھی وائرل تھی جس میں ایک ننھا بچہ زخمی تھا اور روتے ہوئے دیکھ رہا تھا، ساتھ ہی لکھا گیا تھا کہ میں اللہ کو جا کر سب کچھ بتاؤں گا، اس بچے سے متعلق سوشل میڈیا پر بتایا گیا تھا کہ اس کے بعد یہ بچہ اللہ کو پیارا ہو گیا ہے، تاہم اس پوسٹ سے متعلق اے پی ایس شہداء میں کوئی مصدقہ معلومات نہ مل سکیں، عین ممکن ہے کہ یہ پوسٹ شام، عراق یا فلسطین سے ہو۔