عامر لیاقت کا دنیا سے اچانک چلے جانا ایک ایسا صدمہ تھا جو نہ صرف ان کے گھر والوں کے لئے افسوسناک تھا بلکہ پوری قوم کے لئے ایک دردناک لمحہ تھا کیونکہ ایک طرف سوشل میڈیا پر ان کی بے عزتی کی جا رہی تھی ہر میمز کا حصہ ان کو بنایا جا رہا تھا وہیں دوسری جانب ان کی تیسری کم عمر بیوی دانیہ شاہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر انکی عزت کو سرِ عام اُچھال رہی تھی اور وہ سابق شوہر کی وہ نازیبا ویڈیوز وائرل کیں جس سے ایک عالم کی ہی روح کو ٹھیس نہ پہنچے بلکہ ایک عام انسان بھی سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟
دانیہ نے کچھ ماہ قبل کورٹ میں تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر کیا اور پھر عامر لیاقت کا دنیا سے جانا ایک ہیبت ناک مرحلہ تھا مگر پھر ان کی موت کے بعد دانیہ جائیداد کے لئے اپنا حق مانگنے کے لئے سب سے زیادہ آگے آگے پیش رہی اور ہر طرح اپنے حق کی جنگ لڑی پھر مطالبہ کر ڈالا کہ ان کی قبر کشائی کی جائے جو یقیناً ایک تکلیف دہ بات تھی جس پر عامر لیاقت کی پہلی بیوی ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے کورٹ میں بھرپور مقدمہ لڑا اور ایک حقیقی بیوی ہونے کا پختہ ثبوت دیا۔
سوشل میڈیا پر ہر کسی نے پہلے عامر لیاقت کو میمز کی نظر کیا مگر ان کی موت کے بعد سب کو اگر کوئی قصوروار نظر آئی تو وہ ان کی بیوی دانیہ شاہ ۔۔ دانیہ نے جو کچھ بھی کیا وہ نہ تو اخلاقی زمرے میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی بات تھی جو ایک اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دے کیونکہ آپس میں اختلافات ہر میاں بیوی کے درمیان ہوتے ہیں یوں آپس کی ذاتی باتیں اچھال کر رشتے کے تقدس کو بھی ٹھیس پہنچائی۔
بہرحال کل رات ایک خبر سامنے آئی کہ دانیہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا اور ان کو گھر سے پولیس سٹیشن لے گئے۔ مگر ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ میں جب پولیس اسٹیشن گئی تو وہاں کوئی سننے کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ دانیہ وہاں پر موجود ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف ائی اے کے سائبر کرائم سرکل نے مرحوم عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ کو لودھراں سے گرفتار کرلیا۔ جن کے خلاف مرحوم کی بیٹی نے شکایت درج کروائی تھی۔
دانیہ کی والدہ سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے کہ بیٹی کو پولیس اور کچھ افراد گھر میں گھس کر گرفتار کرکے لے گئے۔ میں تھانے گئی تو کوئی کچھ نہیں بتارہا اور نہ ہی یہاں دانیہ موجود ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے ملزمہ کو متنازع ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔
جب یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے دانیہ کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دانیہ کو جس نے عزت دی اور ایک مقام دیا اس نے اسی شوہر کی عزت کو اچھالا اور اب اس کے انتقال کا وقت ہے جو خُدا یقیناً اس سے دنیا و آخرت دونوں میں لے گا۔ شوہر کی زندگی میں اس کو اس قدر ذلیل کیا کہ لوگوں کی نظروں میں سوالیہ نشان بنا دیا اور مرنے کے بعد جائیداد کے لالچ میں آکر ان کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام تک کروایا تاکہ کوئی اس پر شک نہ کرسکے۔
اس پر عامر لیاقت کی پہلی بیوی ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے کہا کہ "اللّہ اکبر" اور یہ الفاظ یقیناً اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ ایک دن دانیہ کو اپنے کیے گئے اعمالوں کا نتیجہ ضرور ملے گا۔