جان کا صدقہ سمجھ کر دے دو ۔۔ والد جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دے رہے تھے، مفتی منیب الرحمٰن بھی جذباتی ہر گئے

image

کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز میں جہاں اب رات کے اندھیرے میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہوتا ہے وہیں دن کے اجالے میں بھی شہری محفوظ نہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بلال ناصر کافی وائرل تھا، کراچی کی جامعہ کا طالب علم جس نے اپنی جوان دے دی تاہم ڈاکوؤں کے آگے کھڑے ہونے کی کوشش کی، تام آس پاس موجود لوگ تکتے رہے۔

پہلا قدم اٹھانے والا یہ نوجوان والدین کا دلارا تھا، جسے سماما شاپنگ مال کے پاس چائے کے ہوٹل کے پاس ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیا، خدارا جب کبھی ایسا ہو، کوئی ڈکیت ظالم آپ کے پاس آئے تو آپ جان کا صدقہ سمجھ کر اسے دے دیں۔

ناصر کی نماز جنازہ مشہور عالم دین اور مفتی منیب الرحمٰن نے پڑھائی تھی، جبکہ والد کی آنکھوں کے آنسو دیکھ کر مفتی منیب بھی جذباتی ہوگئے تھے، نماز جنازہ میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمٰن بھی موجود تھے۔

کیونکہ آپ کی جان آپ کے گھر والوں کے لیے کافی اہمیت کی حامل ہے، بوڑھے والدین کا بازو بننا ہوتا ہے، اسی بازو کو اگر زخم لگ جائے یا کٹ جائے تو والدین مجبوری کی زندگی میں بھی آ سکتے ہیں، اسی لیے جب کبھی خدا نا خواستہ ایسی صورتحال ہو تو اپنے والدین اور گھر والوں کا صدقہ ہی سمجھ کر دے دیں۔

کیونکہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی واقعہ پیش آیا ہے۔ کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں 24 سال کا نوجوان بھی ڈکیتی مذاحمت اور واقعے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

24 سالہ اُسامہ کو ڈکیتوں نے محض اس لیے مار دیا، کیونکہ اُسامہ ڈکیتی کی واردات میں مزاحمت کر رہا تھا۔ لیکن 24 سالہ اُسامہ جو کہ حافظ قرآن تھا اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، وہ ان درندوں اور والدین کی شرمندگی کا باعث بننے والوں کی درندگی کا نشانہ بن گیا۔

ظاہر ہے، جوان اور اکلوتی اولاد کو کھونے کا غم کسی بڑے سانحے سے کم نہیں، یہ دکھ والدین بخوبی جانتے ہیں۔ تاہم عوام اب بھی حکومتی اقدامات پر مطمئن نہیں دکھائی دیتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US