ماں تو رو لیتی ہے، مگر باپ جوان بیٹے کا غم کیسے چھپاتا ہے؟ چند شہید جوانوں کی ایسی داستان، جس نے سب کو افسردہ کر دیا

image

پاکستان کی فوج کے جوان اکثر جب شہادت کے قریب ہوتے ہیں تو اپنے پیاروں سے آخری ملاقات تک نہیں کر پاتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسے ہی جوانوں اور ان کی تکلیف دہ کہانیوں کے بارے میں بتائیں گے۔

سوشل میڈیا پر hilal.gov.pk نامی ویب سائٹ پر حافظہ انیلہ یاسین کی جانب سے ایک شہید بیٹے اور والد کی داستان کو پبلش کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ اکلوتے بیٹے کا والد ہونا اور اس کی شہادت کی خبر گھر والوں کو دینا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

والد چونکہ خود بھی آرمی کے ریٹائرڈ آفیسر تھے، یہی وجہ تھے کہ بیٹے کے آرمی میں منتخب ہونے پر وہ خوش تو بہت تھے تاہم انہیں حیرت بھی تھی کہ ان کا لخت جگر اب اتنا باہمت اور سمجھدار بن گیا ہے کہ وہ اب ملک کا دفاع بھی کر سکتا ہے۔

خاندان کا ہر فرد بیٹے کو مبارکبار دے رہا تھا، والد کا سینہ بھی فخر سے چوڑا ہو رہا تھا تاہم وہ دن جب آیا جس دن بیٹے کو ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد وزیرستان جانا تھا تو ظاہر ہے ماں باپ تو پھر ماں باپ ہیں، جن کا دل اسی ڈر میں تھا کہ کہیں بیٹے سے آخری ملاقات نہ ہو، کیونکہ عام طور پر ایسے علاقوں میں بیٹے ماؤں سے ہفتوں ہفتوں تک بات نہیں کرتے۔

ماں اور بہن کو جذباتی اور والد کو بھی گم سم دیکھ کر بیٹے صرف ایک ہی جواب دیا کہ حضرت خالد بن ولید کا قول آپ لوگوں نے نہیں سنا؟ کہ دنیا کے بزدلوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدان جنگ میں موت ہوتی تو خالد بن ولید کبھی بستر پر نہ مرتا''ہم سب کو بہت سی تسلیاں دے کر اور اپنی چمکتی آنکھوں میں شہادت کے خواب سجا کر وہ اپنی عظیم منزل کی طرف نکل پڑا۔

اور پھر وہ دن جب بیٹی کی شادی کا دن طے پایا تو اس دن بھی بیٹا وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے، جہاں فیملی خوش تھی وہیں بیٹا اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے خلاف لڑ رہا تھا۔ بہن بھی بھائی کے بغیر شادی نہ کرنے پر بضد تھی، لیکن والد نے بیٹی اور ماں کو سبھال لیا۔

مگر وہ دن جب دوست نے لخت جگر کی شہادت کی خبر دی، تو جیسے والد کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی، ساتھ ہی دوست نے والد کو یہ بھی کہا کہ تم ایک باپ کو تمہیں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو سنبھالنا ہے، لیکن ظاہر ہے، ماں کو جیسے ہی یہ خبر ملی، ماں نے اپنا دکھ آنسوؤں کی صورت میں ظاہر کرنا شروع کیا، اسی طرح بہن بھی بھائی کی شہادت روتی رہی۔

ایک شہید کے گھر والے بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کس اذیت کے ساتھ اس دن کے لیے تیاری کرتے ہیں، مگر مادروطن کے لیے وہ سب کچھ سہن کر ہی لیتے ہیں۔

ایک ایسا ہی پاک فوج کا جوان اسفند یار تھا، اسفند یار کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں نہ صرف پاکستان سے محبت کا اظہار کھل کیا جاتا تھا، کیپٹن اسفند یار نے بھی بڈھ بیر ائیر بیس پر ہونے والے حملے کو کچھ اس طرح ناکام بنایا کہ اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کی۔

آپریشن تقریباً مکمل ہو گیا تھا، تمام تر دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا تھا مگر ایک دہشت گرد اب بھی موجود تھے اس ایک دہشتگرد کو اگرچہ جہنم واصل کر دیا تھا بعد ازاں، تاہم اسفند کے سینے میں لگنے والی گولی شہادت کا باعث بنی۔

اس سب میں والد اس لیے بھی کافی متاثر ہوئے تھے کیونکہ اسفند یار والد سے بے انتہا محبت کرتا تھا، اب ظاہر ہے جس والد پر بیٹا جان نچھاور کرے، تو باپ بھی کیوں نا ایسے بیٹے کی شہادت پر تکلیف دہ نہ ہو۔

والد اگرچہ آپ اپنا دکھ اور صدمہ ہر ایک سے شئیر نہیں کر پاتے مگر ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں وہ اپنا دکھ کا اظہار ضرور کرتے ہیں، اسفند کے والد کی یہ تصویر بھی سوشل میڈیا صارفین کو افسردہ کر گئی جب وہ اپنے بیٹے کی قبر کے پاس آرام کرتے دکھائی دیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US