’خطرناک‘ اور ’بے قابو‘ چیٹ بوٹس: ایک ایسا مجرم جس نے سائبر سکیورٹی کی دنیا کو حیران کر دیا

مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے لیے ایک طرح کے ایپ سٹور ’ہگنگ فیس‘ نے 16 جولائی کو اعلان کیا کہ اسے ایک ایسے سائبر مجرم نے ہیک کر لیا ہے جو انتہائی طاقتور آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کر رہا تھا۔
OpenAI logo
Getty Images

اس ہفتے ٹیکنالوجی کی دنیا ایک ایسی خبر کی گرفت میں رہی جس میں سب کچھ تھا اور جس کا آغاز ایک سائنس فکشن تھرلر کی طرح ہوا۔

مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے لیے ایک طرح کے ایپ سٹور ’ہگنگ فیس‘ نے 16 جولائی کو اعلان کیا کہ اسے ایک ایسے سائبر مجرم نے ہیک کر لیا ہے جو انتہائی طاقتور آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کر رہا تھا۔

اس چونکا دینے والے اعلان میں خوف پیدا کرنے والی اور انتہائی تکنیکی اصطلاحات شامل تھیں: ’سینڈ باکسز کا جھنڈ‘ ’ایجنٹک حملہ آور‘ اور ’خود کار کمانڈ اینڈ کنٹرول۔‘

’ہگنگ فیس‘ نے کہا کہ یہ ہیک اس سے پہلے پیش آنے والے تمام واقعات سے مختلف تھا کیونکہ اسے ایک ایسے اے آئی ایجنٹ نے انجام دیا تھا، جو انسانی رہنمائی کے بغیر یا بہت کم انسانی رہنمائی کے ساتھ غیر معمولی تیزی سے کام کر رہا تھا۔

اے آئی نے دو دن سے بھی کم وقت میں 17 ہزار کارروائیاں انجام دیں اور کامیابی کے ساتھ ایک بڑی اور مالی طور پر مضبوط ٹیک کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑ کر راز چرا لیے۔

اس واقعے نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

لیکن اس حملے کا ذمہ دار کون تھا؟

’ہگنگ فیس‘ کے محققین نے اندازہ لگایا کہ پراسرار حملہ آوروں نے بڑے اے آئی ماڈلز میں سے کسی ایک کو استعمال کیا ہوگا، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ مجرم کون ہیں یا کہاں موجود ہیں۔

حیران و پریشان کمپنی نے پولیس سے رابطہ کیا اور تحقیقات شروع ہو گئیں۔

تصویر
Getty Images

یہ کس نے کیا؟

تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کاروں نے اپنے پوڈکاسٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہ قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ اس کے پیچھے کون سا سائبر جرائم پیشہ گروہ یا ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والا ہیکر ہو سکتا ہے۔

پھر بدھ کے روز تقریباً ایک ہفتے بعد جب ’ہگنگ فیس‘ نے اس خطرے سے آگاہ کیا تو اصل ذمہ دار سامنے آ گیا۔

وہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ تھا۔

اس فلمی طرز کے انکشاف کو مزید عجیب اور تشویش ناک بنا دینے والی بات یہ تھی کہ ’اوپن اے آئی‘نے کہا کہ اس کے چیٹ بوٹ نے یہ سب کچھ اپنی مرضی اور بغیر اجازت کے کیا۔

کمپنی کے مطابق یہ سب اس کی ٹیکنالوجی کی ہیکنگ صلاحیتوں کے ایک ٹیسٹ کے دوران ہوا۔

چیٹ جی پی ٹی کے دو نئے ورژنز، جنھیں ماہر ہیکر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، ایک بظاہر محفوظ آزمائشی ماحول سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی۔

اس کے بعد اُنھوں نے ’ہگنگ فیس‘ پر حملہ کیا تاکہ ایسی معلومات حاصل کر سکیں جو انھیں اپنے امتحان میں بہترین کارکردگی دکھانے میں مدد دے سکیں۔

اوپن اے آئی نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ کیا ہوا تھا اور کہا کہ وہ ’ہگنگ فیس‘ کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے تاکہ سکیورٹی واقعے سے نمٹا جا سکے اور حاصل ہونے والے اسباق کو شیئر کیا جا سکے۔

سازشی ڈرامہ

اس کے بعد سے اس واقعے پر بحث جاری ہے۔

کیا یہ واقعی اے آئی کے مستقبل کے بارے میں ایک واضح انتباہ تھا؟

یا پھر یہ اوپن اے آئی کی جانب سے اپنے ماڈلز کی طاقت دکھانے کے لیے ایک تشہیری حربہ تھا؟

یہ اسی قسم کی خوف پر مبنی مارکیٹنگ ہے جس کا الزام اے آئی کمپنیوں پر برسوں سے لگایا جاتا رہا ہے اور ’اینتھروپک‘ کے ’مائیتھوس‘ ماڈل کے بہت زیادہ زیرِ بحث آنے کے بعد سے سائبر سکیورٹی کی مہارت خاص توجہ کا مرکز رہی ہے۔

اس واقعے کے بارے میں اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین نے ایکس پر لکھا: ’اگر آپ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ صرف ماڈل کی تعریف کرنے کے لیے لکھا گیا تھا تو پھر مجھے نہیں معلوم کہ میں آپ سے کیا کہوں۔‘

سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ ڈینیئل کارڈ نے لنکڈ انپر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا ہی خوش قسمتی ہے کہ لاکھوں ہیک ہونے والی ویب سائٹس میں سے اوپن اے آئی نے ایسی ویب سائٹ کو نشانہ بنایا جسے اس واقعے سے شہرت بھی مل گئی۔‘

کچھ لوگوں کے لیے یہ کہانی سائنس فکشن تھرلر سے زیادہ ایک سازشی ڈرامہ ہے۔

ڈینیئل کارڈ کے بقول کیا اس میں یہ پیغام ہے کہ میرے اے آئی ٹولز بہت طاقتور ہیں، آپ انھیں خریدیں تاکہ آپ دوسروں کے اے آئی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔

ہم حقیقت کو نہیں جان سکتے، لیکن دوسرے مبصرین کی جانب سے پیش کیا گیا متبادل مؤقف بھی اتنا ہی ڈرامائی ہے۔

کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ اوپن اے آئی نے فیصلے اور منصوبہ بندی میں ممکنہ طور پر ایک خطرناک غلطی کی؟

اوپن اے آئی کے ایک ترجمان نے کہا: ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بارے میں بہت سے سوالات اور قیاس آرائیوں پر مبنی تفصیلات گردش کر رہی ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہم آئندہ ہفتوں میں اپنے حاصل کردہ اسباق پر ایک تکنیکی رپورٹ شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

تصویر
Getty Images

غلطیوں کا سلسلہ

میں اے آئی سے متعلق بہت سی خبروں کی کوریج کر چکا ہوں، جن میں اینتھروپک کے مائیتھوس ماڈل سے متعلق خدشات بھی شامل ہیں۔

میرا ان باکس اب سائبر سکیورٹی کمپنیوں اور ماہرین کی تنقید سے بھرا ہوا ہے جو اوپن اے آئی کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ اس نے اپنی اے آئی کی آزمائش کے لیے زیادہ مضبوط کنٹینر جسے سینڈ باکس کہا جاتا ہے، تیار نہیں کیا۔

آخرکار، ان اے آئی ایجنٹس کو خاص طور پر ایسی جگہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے کی تربیت دی گئی تھی جہاں تقریباً کوئی پابندی موجود نہ ہو۔

پلر سکیورٹی کےڈور ساریگ کہتے ہیں کہ اوپن اے آئی اور ہگنگ فیس کا واقعہ ایک وسیع تر مسئلے کی حقیقی دُنیا کی مثال ہے جس کی ہم مہینوں سے نشاندہی کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایجنٹک اے آئی‘ کے لیے صرف سینڈ باکسز ایک کافی سکیورٹی حد نہیں ہیں۔

تصویر
Getty Images

یونیورسٹی آف سرے سے منسلک سائبر سکیورٹی کے پروفیسر ایلن ووڈورڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ اوپن اے آئی کو ’شرمندگی کا سامنا‘ کرنا پڑا ہے۔

لوتا سکیورٹی کی کیٹی موسوریس اس سے بھی آگے گئیں اور کہا کہ اے آئی انڈسٹری اپنی خطرناک ایجادات کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، جسے قابو میں رکھنے کا علم ہمارے پاس موجود نہیں۔

کیٹی موسوریس کا کہنا تھا کہ صرف اس لیے کہ ہمارے پاس اے آئی تیار کرنے والے انتہائی ذہین لوگ ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے محفوظ طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ان آرا کے مطابق اگر یہ ہیکنگ کا واقعہ ایک تشہیری حربہ تھا تو بظاہر اس کے نتائج الٹے پڑے۔

جو بھی وجہ اس ہیک کا باعث بنی ہو، یہ واضح ہے کہ یہ اے آئی انڈسٹری کی سائبر سکیورٹی کی دنیا کے لیے ایک اہم لمحہ ہے، جو اس سال ایسے انداز میں آپس میں ٹکرائیں جس کا خدشہ لوگوں کو طویل عرصے سے تھا۔

اس شدید بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے اے آئی اور سائبر سکیورٹی کی مشیر فرانچیسکا بوسکو نے کہا کہ ’دو سادہ بیانیے یکساں طور پر غیر مددگار ہیں، یہ کہ یہ ہالی وڈ طرز کا فرار تھا، یا یہ محض ایک تشہیری مشق تھی۔‘

ڈیزاسٹر فلم

یہ واقعہ ان تشویش ناک اور عجیب مثالوں کی حالیہ کڑی ہے جن میں اے آئی ایجنٹس بے قابو ہوتے دکھائی دیے۔

حالیہ تحقیق میں برطانیہ کے ایک سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے بتایا کہ اے آئی ماڈلز کام مکمل کرنے کے لیے اس قدر یکسو ہیں کہ وہ اپنا امتحان پاس کرنے کے لیے ’دھوکہ‘ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ماڈل جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے غیر ارادی یا غیر مجاز ذرائع اختیار کرے، نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

لازمی طور پر اوپن اے آئی کے اس ہیک نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے کہ اگر اے آئی ایجنٹس کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔

کیا وہ بڑے پیمانے پر بے قابو ہو کر کسی قسم کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں؟

یہ خدشہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ اے آئی کو جنگی مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے، جیسا کہ ایران اور یوکرین میں دیکھا گیا ہے۔

برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے سابق سربراہ، سیاران مارٹن، نے نسبتاً متوازن مؤقف پیش کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اے آئی ایجنٹس ڈرونز کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور لوگوں کو مارنا شروع کر دیں گے، ایک بڑی چھلانگ ہے۔‘

لیکن مارٹن اور بہت سے دوسرے لوگوں کے نزدیک یہ کہانی بلا شبہ اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے جو 2026 ہمیں تیزی سے سکھا رہا ہے کہ اے آئی ایجنٹس اب بہت اچھے ہیکر بن چکے ہیں اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کے لیے ہمیں فوری طور پر تیار ہونا ہو گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US