افسانے سے قریب تر کہانی میں ایک سعودی لڑکے نے اپنی زندگی کے 21 سال عورت کے طور پر گزارنے کے بعد دریافت کیا کہ وہ عورت نہیں بلکہ ایک مرد ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق، اس شخص کی شناخت رندا شبیلی کے نام سے کی گئی ہے، جس کی کہانی اس وقت سے شروع ہوئی جب وہ ریاض کے ایک سرکاری اسپتال میں پیدا ہوئی تھی، اس وقت ڈاکٹروں نے جنسی اعضا میں غیر معمولیات دیکھی تھیں، اس لیے اسے خاتون کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔
اس شناخت کے ساتھ، رندا، جو اس وقت اپنا نام بدل کر رائد رکھنے کی درخواست کر رہی ہے، ایک خاتون کے طور پر 21 سال تک زندگی گزاری۔ اسکی زندگی تب الٹ پلٹ ہوگئی جب اسے معلوم ہوا کہ وہ کسی طبی غلطی کا شکار ہو گئی تھی، اور وہ اصل میں ایک نوجوان لڑکا ہے اور لڑکی نہیں۔
حقیقت سامنے کیسے آئی؟
حقیقت اس وقت سامے آئی جب رندا نے دیکھا کہ اس میں اپنی ہم عمر خواتین کی طرح بلوغت کی کوئی علامت پیدا نہیں ہوئی، اس لیے وہ چیک اپ کے لیے ہسپتال گئی، اور وہاں اسکے ٹیسٹ وغیرہ ہوگئے۔
جب ڈاکٹرز نے اسکی رپورٹ دیکھی تو ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا اور رندا کو مطلع کیا کہ "وہ ایک عورت نہیں بلکہ مرد ہے اور اسکا مردانہ عضو پیٹ کے اندر ہے۔"
رندا نے سعودی میڈیا کو بتایا، شروع میں یہ ایک عجیب بات لگی جیسے وہ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہوں، کیونکہ یہ میرے لیے غیر منطقی تھا، جیسے میں اپنی زندگی میں صفر پر واپس چلا گیا ہوں۔ ایک نیا نام، نئی پہچان، کوئی دوست، کوئی رشتہ دار نہیں۔
حقیقت سامنے آنے کے بعد کیا ہوا؟
رندا نے بتایا کہ وہ چھپے ہوئے اعضاء کو نکالنے کے لیے سرجری اور ایک اور کاسمیٹک سرجری کروانے والی ہے، جس کے لیے ایک ڈاکٹر نے اسکی برطانیہ جانے کی سفارش کی، اور اس سلسلے میں کاغذات بھی جمع کرائے، لیکن متعلقہ حکام نے کاغذات کو مسترد کر دیا۔
لڑکی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ، اس نے حادثے کا سبب بننے والے اسپتال کے خلاف شکایت درج کرائی تھی لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک تحقیقات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رندا کے والد عبداللہ شبیلی نے تصدیق کی کہ، تحقیقات کے آغاز سے لے کر اب تک 6 ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ہے تک نہ محکمہ صحت سے رابطہ کئے ہوئے لیکن اب تک انہیں نہ تو فائل ملی ہے اور نہ ہی ڈلیوری کے ذمہ دار ڈاکٹرز۔