جب شادی کا کہا تو دونوں غصہ ہوگئیں تھیں ۔۔ کینٹین چلانے والے نے یونیورسٹی کی 2 پروفیسر سہیلیوں کو شادی کے لیے کیسے راضی کیا؟ دلچسپ کہانی

image

“جب شادی کا کہا تو دونوں غصہ ہوگئی تھیں۔ میں نے کہا مجھے آپ دونوں پسند ہیں اور شادی کرنا چاہتا ہوں“

یہ کہنا ہے ملتان سے تعلق رکھنے والے عامر کا جو یونیورسٹی میں کینٹین چلاتے تھے۔ عامر کی شادی یونیورسٹی کی 2 پروفیسر سہیلیوں شگفتہ اور ماہ نور سے ہوئی ہے۔ جو آپس میں پہلے بھی اچھی سہیلیاں تھیں اور ابھی بھی سوتن ہونے کے ساتھ پکی دوستیں ہیں۔

شگفتہ اور ماہ نور کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے عملی سیاسیات اور بین القوامی تعلقات میں گریجویشن کیا ہوا ہے اور ان کا یونیورسٹی سے 6 ماہ تک پڑھانے کا کنٹریکٹ تھا۔ جو ختم ہوتے ہی ان کی شادیاں ہوگئیں۔

جب کہ عامر کا کہنا ہے کہ ان کی کینٹین میں ایک کھڑکی تھی جس کے آگے یہ دونوں پروفیسر بیٹھ کر باتیں کرتی تھیں۔ میں انھیں دیکھا کرتا تھا ایک دن ان دونوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیوں ہمیں دیکھتے ہیں جس پر میرا جواب تھا کہ مجھے آپ دونوں پسند ہیں اور آپ دونوں سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ پھر یہ دونوں غصہ ہوگئیں اور کئی دن تک یونیورسٹی نہیں آئیں۔

شگفتہ اور ماہ نور کا کہنا ہے کہ ان کے گھر والے بھی شادی سے ناراض ہیں لیکن انھوں نے گھر والوں کی ناراضی کی پرواہ کیے بغیر نکاح کیا۔ دونوں سہیلیوں کے نکاح ایک دن کے فرق سے ہوئے جبکہ ولیمہ ایک ساتھ ہوا۔

عامر کہتے ہیں کہ وہ تینوں ایک ساتھ بہت خوش ہیں اور زیادہ تر ساتھ ہی گھومنے پھرنے جایا کرتے ہیں جبکہ شگفتہ اور ماہ نور کہتی ہیں کہ ان کے شوہر چاہیں تو مزید شادیاں بھی کرسکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US