کیمسٹری کے پرچے پر ایک طالبِ علم نے اپنے دل کی ایسی فریاد لکھی کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ طالبِ علم نے لکھا کہ
میرے ابو مجھے گھر سے نکال دیں گے سر جی! آپ کی مہربانی مجھے کیمسٹری میں پاس کر دینا بڑی ظالم ہے یہ کیمسٹری آئی ہیٹ یو ۔۔ انگلیاں پھیر میرے بالوں میں میرا دردِ سر نہیں جاتا ایسے پڑا ہوں تیری یادوں میں کیمسٹری جیسے کوئی مر نہیں جاتا
آج کل سندھ بھر میں امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے ہفتے میٹرک کے امتحانات چل رہے تھے اور اب انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں سارے سال پڑھائی سے دل چرانے والے طالب علموں کے لیے کیمسٹری جیسے مضمون کا پرچہ دینا ایک مشکل ترین کام ثابت ہوتا ہے۔