پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
پریس کانفرنس کے دوران پرویز خٹک نے صدارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے ملک میں سیاسی حالات دیکھ رہا تھا، 9 مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کر چکا ہوں۔
ملک کا سیاسی ماحول بہت خراب ہے اس ماحول میں چلنا مشکل ہے، آئندہ کا لائحہ عمل دوستوں اور پارٹی ورکر سے مشورہ کرکے طے کروں گا۔ جو پروپیگنڈا ہو رہا ہے وہ درست نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے 2 سینیئر رہنما پرویز خٹک اور اسد قیصر کو نظر بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جو مذاکراتی کمیٹی بنائی تھی اس کے دو سینیئر ممبران پرویز خٹک اور اسد قیصر کو خفیہ ایجنسیوں نے ملاقات کے لیے بلایا تھا تاہم اب انہیں ’سیف ہاؤس‘ میں غیر قانونی طور پر نظر بند کردیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر دونوں کو ان کی رہائی کے بدلے پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ جنگل کے اس قانون میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ہے اور کمزور کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔