“جب میں نے پہلی بار قرآن ہاتھ میں لیا تو روتی رہی۔ پتا نہیں کتنے گھنٹوں تک روتی رہی تھی۔ ہاتھ اور سارا جسم کانپ رہا تھا۔ میں پیدائشی طور پر ہندو تھی اور انڈین ہوں جہاں مسلمان تو بہت رہتے ہیں لیکن مجھے یہی بتایا گیا کہ مسلمان اچھے لوگ نہیں ہوتے، دہشت گرد ہوتے ہیں لیکن اب میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے“
یہ کہنا ہے کہ مریم کا جن کا تعلق بنیادی طور پر بھارت سے ہے۔ مریم کچھ عرصہ پہلے دبئی میں کام کے سلسلے میں شفٹ ہوئیں تو انھیں اسلام کی کشش نے اپنی اپنی طرف کھینچنا شروع کیا جس کے تھوڑے دنوں بعد مریم نے کلمہ پڑھ لیا۔
ایک سوال کے جواب میں مریم کہتی ہیں کہ وہ ایسے ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جو عملی طور پر مذہبی نہیں لیکن اپنے نظریات میں کافی شدت پسند ہیں۔ اس لئے ان کا مسلمان ہونے کا فیصلہ بہت مشکل تھا۔
مریم نے بتایا کہ انھوں نے بچپن سے یہی سنا تھا کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں لیکن دبئی میں انھوں نے دیکھا کہ مسلمان سب کی مدد کرتے ہیں اور اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ انھوں نے آن لائن اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور پھر قرآن کا مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ اسلام پر امن مذہب ہے۔
مریم نے کہا کہا کہ “زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب آپ ٹوٹ جاتے ہیں، اللہ آپ کو توڑتا ہے تاکہ آپ اس سے جڑ سکیں۔ آپ خدا پر یقین رکھیں۔ اس سے بڑی کوئی دولت نہیں“۔