بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤ۔ غصے یا جلد بازی میں کوئی ایسا کام نہ کرو کہ پچھتانا پڑے۔ لیکن انسان اپنی فطری کمزوریوں کی وجہ سے اکثر کچھ ایسے کام بھی کرجاتا ہے کہ ساری زندگی کا پچھتاوا اس کا مقدر بنتا ہے۔ ایسا ہی اس عورت کے ساتھ ہوا جس نے اپنے غصے اور جلد بازی میں اسی کتے کی جان لے لی جس نے اس پر احسان کیا تھا۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک عورت کے پاس پالتو کتا تھا۔ کتے تو یوں بھی وفاداری کے لئے مشہور ہوتے ہیں۔ ایسے ہی وہ پالتو کتا بھی کافی وفادار تھا۔ عورت کا ایک ننھا سا بچہ تھا۔ ایک دن اچانک اس عورت کو باہر جانا پڑا لیکن دھوپ تیز تھی اور وہ بچے کو نہیں لے جاسکتی تھی. اس لئے اس نے بچے کے پاس کتے ہو بٹھایا اور خود باہر چلی گئی۔
واپس آکے دیکھا تو عورت کے ہاتھ سے طوطے مینا اڑ گئے کیونکہ سارا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔ کتے کے منہ پر خون لگا دیکھ کر عورت نے بچے کی تلاش شروع کی تو وہ نہ ملا۔
عورت کو لگا کہ کتے نے اس کے بچے کی جان لے لی ہے۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور پاس پڑے ڈنڈے سے کتے کو مار مار کر ہلاک کردیا۔ عورت بچے کی موت پر بین کررہی تھی کہ اچانک اسے دوسرے کمرے سے بچے کی قلقاریوں کی آواز آتی ہے۔ جا کر دیکھتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا بچہ بیٹھا کھیل رہا ہے اور قریب ہی ایک خوفناک سانپ مرا ہوا ہے۔ عورت منٹوں میں سمجھ جاتی ہے کہ کتے نے کتنی مشکلوں سے بچے کی جان اس سانپ سے بچائی ہوگی لیکن اس نے بدلے میں وفادار کتے کی ہی جان لے لی۔ لیکن اب پچھتانے سے کیا حاصل
اگر ہم غور کریں تو ہمارا رویہ بھی اس عورت سے کم نہیں ہوتا۔ غصے اور ناسمجھی میں ہم بھی دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ برا سلوک کرجاتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے رشتے میں دراڑ پیدا کردیتا ہے۔ ہمیں ہر کام سے پہلے اس کے نتائج سوچ لینے چاہئیں تاکہ پچھتاوے سے بچ سکیں۔