بیٹیوں کے والدین ان کی پیدائش سے نہیں بلکہ ان کے نصیب سے ڈرتے ہیں اور کچھ لوگ تو ساری زندگی پیسہ جوڑتے ہیں تاکہ بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کریں اور ان کو جہیز پیٹ بھر کر دیا جائے تاکہ بیٹی کبھی کسی سے کوئی طعنہ نہ سنے۔ کسی کی کوئی بات نہ سنے لیکن جہیز کے چکر میں کتنی ہی بیٹیاں یا تو بابل کی دہلیز پار نہیں کر پاتی ہیں اور یا تو پھر اگر پرائے گھر چلی جائیں تو جہیز کی لعنت کے عوض ان کو باتیں سنائی جاتی ہیں۔
یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے اور 10 میں سے 7 خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کی نظر میں جہیز کی کوئی حیثیت نہیں۔ کچھ اتنے خُدا کے نیک بندے بھی ہوتے ہیں جو جہیز کے بناء بھی غریب کی بیٹی کو قبول کرلیتے ہیں۔ جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد ایف ایٹ کی ایک مسجد میں اس کے خلاف مہم کا اعلان اور اس میں شامل ہونے والوں کے دستخط لیے گئے ہیں اور باقاعدہ بینر پر لکھا گیا ہے کہ میں جہیز نہ لینے کا اعلان کرتا ہوں۔
اس معاشرے میں جبکہ مہنگائی اور سماجی برائیاں حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، اس وقت میں جہیز کو ختم کرنے جیسے مثبت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بیٹیوں کے والدین بھی پرسکون رہ سکیں اور زنا جیسی برائیوں کی جڑ کو بھی ختم کیا جا سکے۔