گرمیوں کا موسم آتے ہی ہوا میں بھی جیسے آم کی خوشبو بس جاتی ہے، بازار جاؤ تو چاروں طرف آم کی ریڑیاں لگی دکھائی دیتی ہیں، جسے دیکھ کر دل بے قابو ہوجاتا ہے اور پھر اسے خریدے بغیر گھر آنے کو دل نہیں مانتا۔
ایک طرف جہاں عام لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ آم زیادہ سے زیادہ کھائیں جائیں وہیں دوسری طرف ذیابیطس کے مریض بس اسی سوچ میں رہتے ہیں کہ کیا ہم آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
تو آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق، شوگر کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں، آسان الفاظ میں کہیں تو ذیابیطس کے شکار افراد آم کھاسکتے ہیں مگر محدود مقدار میں یا اعتدال میں رہ کر۔
شوگر کے مریض کتنی مقدار میں آم کو کھا سکتے ہیں؟
ماہرین کہتے ہیں کہ، آم کی ایک پھانک یا کٹے ہوئے آم کا آدھا چھوٹا کپ کھایا جاسکتا ہے، مگر مینگو شیک، جوس وغیرہ سے گریز کرنا چاہئے۔
اسلیئے اب ذیابطیس کے شکار لوگوں کو اس فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ بتائی گئی مقدار کے حساب سے آم کھا کر اپنی یہ خواہش پوری کرسکتے ہیں۔