گزشتہ روز 4 بجے کے قریب پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کنونشن میں دھماکا ہوا تھا، جس کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی تھی۔
دھماکے کی اطلاع موصول ہوتے ہی امدادی کاروائیاں شروع کردی گئی تھیں اور ریسکیو ٹیمیں بھی فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھیں جس کے بعد سے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔
دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد:
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، باجوڑ میں ہونے والے دھماکے میں اب تک 46 افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جاں بحق افراد میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ 90 سے زائد افراد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ، 38 میتیں شناخت کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں جبکہ 8 لاشیں ناقابل شناخت ہونے کی وجہ سے اب تک اسپتال میں موجود ہیں۔
دھماکے کا ذمہ دار کون؟
ڈی پی او نذیر خان کے مطابق، تین مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے علاوہ حادثے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے نام سے تھانہ سی ٹی ڈی باجوڑ میں درج کردی گئی ہے، جس میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔