پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں راولاکوٹ کے علاقے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
راولاکوٹ میں کئی ہفتوں سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے (تصویر: 24 جون، 2026)پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں راولاکوٹ کے علاقے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیر کو رات گئے جاری کیے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی مظاہرین پر فائرنگ سے 14 کارکن مارے گئے ہیں تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے تصادم میں دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی جس سے پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن امتیاز اسلم نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ پیر کو فائرنگ سے ان کے 14 ساتھی مارے گئے جن میں کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔
بی بی سی ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے کارکن اب راولاکوٹ شہر میں موجود ہیں اور وہاں سے مظاہرین مظفر آباد کی طرف بڑھیں گے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے چار روز میں وہاں پہنچ جائیں گے۔
یاد رہے کہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور میں الیکشن ہوا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد میں دو اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم کے ہزاروں کارکنان راولا کوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔
اس احتجاج کے دوران اب تک 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 34 مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔
انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے جو تاحال بے نتیجہ رہے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زیادہ کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں راولاکوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 14 ہلاکتوں کے بارے میں دعوے پر کہا ہے کہ ان دعووں کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ نہ کوئی لاش کسی سرکاری یا نجی ہسپتال لائی گئی ہے اور نہ ہی پولیس کے پاس کوئی لاش موجود ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ آ جائیں اور یا انھیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے وہ تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔
راولاکوٹ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم
راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے پیر کو سنگولہ کے مقام سے راولاکوٹ شہر آنے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز اور پولیس نے ان مظاہرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ دو ہزار کے قریب مظاہرین بس ٹرمینل کی جانب سے راولاکوٹ کی جانب آئے تو انھیں بھی شہر میں داخل ہونے سے زبردستی روکا گیا۔
انھوں نے کہا کہ دریک کے مقام جہاں پر ایکشن کمیٹی ڈیڑھ ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہیں، وہاں سے تین ہزار کے لگ بھگ مظاہرین نے راولاکوٹ کی جانب مارچ کیا۔ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ دریک کی جانب سے آنے والے مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی فائرنگ کی۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی بڑی واضح پالیسی ہے کہ ’مظاہرین کی جانب سے جہاں سے فائرنگ ہوگی تو اس کے جواب میں فائرنگ کی جائے گی۔ جبکہ باقی مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ دریک کی جانب سے جو مظاہرین راولاکوٹ کی جانب آ رہے تھے تو ان میں خواتین بھی شامل تھیں جو کہ سب سے پیچھے تھیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے جمع ہونے والے کارکنوں میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھیادھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مجلسِ عاملہ کے رکن عابد شاہین نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ’پُرامن لانگ مارچ کے شرکا پر بلا اشتعال فائرنگ کی‘۔
انھوں نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ ’اب کسی صورت نہیں رُکے گا اور وہ مظفر آباد پہنچ کر ہی رہیں گے۔‘
راولاکوٹ میں ہونے والے تصادم کے بارے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان 'شرپسند عناصر' نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مظاہرین کی طرف سے لانگ مارچ اور الیکشن کا بائیکاٹ کیوں؟
24 جولائی کی رات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پہلے مرحلے میں سنیچر کو میرپور سے اُن کی تنظیم کے حامی افراد لانگ مارچ کرتے ہوئے راولا کوٹ میں دریک کے مقام پر پہنچیں گے جس کے بعد 27 جولائی کو راولا کوٹ سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اُن کی تنظیم اور اُس کے حامیوں کو الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سال مئی میں جب پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے تو اس دوران اُن کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن بعد میں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے کہ ان کی تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکی۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ مذاکرات میں شامل حکومتی ٹیم کے ایک رُکن نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی ہے۔
عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اُن کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
مذاکرات میں شامل شخصیت کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔
خیال رہے کہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔ ان میں سے شوکت نواز میر کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور اہم کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں بھی ڈال دیے تھے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھ شیڈول بھی کہا جاتا ہے، میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیراستعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔

12 نشستوں کا تنازع ہے کیا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔
کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔

میرپور میں الیکشن کے پہلے مرحلے کے دوران کیا ہوا؟
الیکشن کمیشن نے کہنا ہے کہ میرپور میں تشدد کے بعض واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے بتایا کہ ایل اے ون میرپور ون میں مسلم لیگ ن کے اظہر صادق 15 ہزار 427 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے افضل شاہد دوسرے نمبر پر رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ باقی نتائج بھی جلد جاری کر دیے جائیں گے۔
ووٹرز ٹرن آؤٹ کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ہر حلقے کا الگ الگ ٹرن آؤٹ رہا ہے تاہم میرپور ون میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 27 فیصد رہا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق اب تک کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالات کی وجہ سے یہ تاریخ کے سب سے سخت الیکشن تھے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اکا دکا واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی۔
ضلع کوٹلی کی چھ، ضلع بھمبر میں تین اور ضلع میرپور کی چار نشستوں کے مختلف پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ووٹروں کی تعداد ماضی کے مقابلے کم تھی۔ انتخابات کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 18 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فوج کے اہلکار بھی علاقے میں موجود تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور فون اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ماضی کی طرح انتخابی سرگرمیاں وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک نے میرپور کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا جہاں ان کے مطابق ’پولنگ کا عملہ ووٹرز کا انتظار کرتے دکھائی دیا۔ نوجوان ووٹرز بھی کم تھے۔‘
یاد رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی گذشتہ ماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔