ٹروبا ٹیسٹ کا تیسرا دن دونوں ٹیموں کے فاسٹ بولرز کے نام رہا اور جب کھیل ختم ہوا تو ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے تھے اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 155 رنز کی برتری حاصل تھی۔

ٹرینیڈاڈ کے شہر ٹروبا کی برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جا رہے پہلے کرکٹ ٹیسٹکے تیسرے روز تیزی سے بدلتی صورتحال نے میچ کو دلچسپ اور سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
ٹروبا ٹیسٹ کا تیسرا دن دونوں ٹیموں کے فاسٹ بولرز کے نام رہا اور جب کھیل ختم ہوا تو میزبان ٹیم نے اپنی دوسری اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے تھے اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 155 رنز کی برتری حاصل تھی۔
تیسرے دن کے آغاز پر جب پاکستان نے اپنی پہلی اننگز تین وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز کے ساتھ شروع کی تھی تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ دن کے اختتام تک شائقین 14 وکٹیں گرتی دیکھیں گے۔
کھیل کے ابتدائی سیشن میں پاکستان کے سابق کپتان شان مسعود نے کریئر کی ساتویں سنچری مکمل کی اور 244 کے مجموعی سکور تک بھی پاکستانی ٹیم کی صرف چار وکٹیں ہی گری تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ باآسانی ویسٹ انڈیز کے پہلی اننگز کے سکور 311 رنز تک پہنچ کر برتری حاصل کر لے گی لیکن پھر ویسٹ انڈین میڈیم پیسر جسٹن گریوز کا وہ تاریخی سپیل سامنے آیا جس نے اس وقت کھیل کا پانسہ ویسٹ انڈیز کے حق میں پلٹ دیا۔
جسٹن گریوزنے مسلسل پانچ میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیاگریوز نے مسلسل پانچ میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے ٹیسٹ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا اور پاکستان کی پوری ٹیم 282 رنز پر ہی پویلین لوٹ گئی اور ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 29 رنز کی برتری مل گئی۔
29 رنز کی اس برتری کے ساتھ جب ویسٹ انڈین بلے بازوں نے دوسری اننگز شروع کی تو پاکستانی فاسٹ بولرز نے انھیں آزمائش میں ڈال دیا۔
محمد عباس نے نئی گیند سے اپنے پہلے ہی سپیل میں اوپنر برینڈن کنگ اور کیوم ہوج کو پویلین کی راہ دکھائی۔ عباس نے اس سپیل میں 13 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
دوسری جانب سے خرم شہزاد نے بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی اور عامر جمال نے ایک، ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔
ٹاپ آرڈر کے لڑکھڑانے کے بعد ویسٹ انڈیز کا مڈل آرڈر بھی وکٹ پر نہ جم سکا اور 43 رنز پر چار وکٹیں گنوانے والی ٹیم نے میچ کا اختتام 126 رنز پر سات کھلاڑیوں کی پویلین واپسی کے ساتھ کیا۔
سوشل میڈیا پر پِچ اور پاکستانی باؤلنگ کے بارے میں کیا بات ہوئی؟
ویسٹ انڈیز میں جاری میچ کے دوران پُچ کی کنڈیشن پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ پِچ غیر معمولی طور پر سست ہے، جس کی وجہ سے تیز گیند بازوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ شائقین نے اپنی ٹیم کے بولرز پر مختلف رائے دی ہے۔
جہاں پہلی اننگز میں کچھ صارفین نے پاکستانی تیز گیند بازوں کی رفتار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں اب دوسری اننگز میں پاکستانی سیمرز کی کارکردگی کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔
علی عمران نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’کیریبین کی حبس زدہ فضا میں نئی ڈیوک گیند کے ساتھ محمد عباس کی بولنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ کششِ ثقل کے اصول ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ بلے باز نہ صرف کیچ دے رہے ہیں بلکہ بری طرح چکرا بھی رہے ہیں۔‘
دانش علی نے لکھا کہ ’ٹروبا کی پچ کے موڈ ٹیسٹ میچ کے آخری سیشن میں کرکٹ شائقین سے زیادہ بدل رہے ہیں۔ ایک گیند نیچے رہتی ہے تو اگلی کیپر کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔‘
یاسر خان نامی صارف نے رائے دی کہ ’سکواڈ میں شامل نئے کھلاڑی شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ پہلے کیریبین ڈانس کے سٹیپس سیکھیں یا ڈیفنسو بلاک پر توجہ جمائے رکھیں۔‘
ثاقب جاوید نامی صارف نے لکھا کہ ’ویسٹ انڈیز کے وقت کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ میچ دیکھنا گویا صرف 10 اوورز کی ’ایج اینڈ مس‘ بولنگ دیکھنے کے لیے اپنی آٹھ گھنٹے کی نیند قربان کرنا ہے۔۔۔ لیکن یقین کریں، اس سب کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔‘

ایکسپرعروج جاوید نامی ایک صارف نے پاکستان کے فاسٹ بولر محمد علی کی رفتار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں محمد علی مسلسل 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے تھے، تاہم ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے سپیل میں ان کی رفتار 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی۔‘
عروج جاوید نے مزید کہا کہ ’یا تو پی ایس ایل میں استعمال ہونے والی سپیڈ گنز درست رفتار نہیں دکھاتیں یا پھر محمد علی کی رفتار میں واقعی اتنی کمی آئی ہے۔‘
ان کا ایکس پر کہنا تھا کہ ’پاکستان کی فاسٹ بولنگ پہلے ہی برق رفتار اور ایگریسو نہیں رہی، ایسے میں اگر 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا بولر بین الاقوامی کرکٹ میں 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائے تو یہ یقیناً تشویش کا باعث ہے۔‘
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین شان مسعود کی بلے بازی کی تعریف بھی کرتے ہوئے نظر آئے۔
ایکس صارف ارتضیٰ اقبال نے پاکستانی بلے باز کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی عمدہ بیٹنگ کی ایک اہم وجہ کپتانی کے دباؤ سے آزادی بھی ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’بطور کپتان کھلاڑی کو مسلسل فیلڈ سیٹنگ، بولنگ میں تبدیلیوں، اوور ریٹ اور مختلف حکمت عملیوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، جبکہ کپتانی کی ذمہ داری نہ ہونے کی صورت میں شان مسعود پوری توجہ اپنی بیٹنگ پر مرکوز کرنے میں کامیاب دکھائی دیے۔‘
ارتضیٰ اقبال کے مطابق ’شان مسعود نے 137 گیندوں پر ناقابلِ شکست 88 رنز کی اننگز کے دوران مثبت انداز اپنایا، بہترین ٹائمنگ کا مظاہرہ کیا اور شاٹس کا انتخاب بھی انتہائی سمجھداری سے کیا۔ شان مسعود پراعتماد، پُرسکون اور اپنی فطری کھیل کے مطابق زیادہ آزادی سے بیٹنگ کرتے نظر آئے۔‘

جہاں ایک جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل تیز گیند باز محمد علی کی کم رفتار سے باؤلنگ کرنے پر کُچھ صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کُچھ کرکٹ شائقین کی جانب سے اُن کی لائن اور لینتھ پر بھی بات کی۔
ایکس صارف طلحہ نواز نے پاکستان کے تین سابق تیز گیند بازں کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل موجودہ تین گیند بازوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر میں سے کسی کی بھی کم سے کم رفتار بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم نہیں تھی مگر اب اس وقت ٹیم میں شامل محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی تو زیادہ سے زیادہ رفتار بھی 136 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی پہچان کبھی برق رفتار فاسٹ بولنگ ہوا کرتی تھی۔ اب وہ خوف کہاں چلا گیا؟ ہماری فاسٹ بولنگ کی شاندار روایت اس سے کہیں بہتر کی مستحق ہے۔‘
تاہم یہاں اس بات کا ذکر کنا ضروری ہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں محمد علی نے چار، محمد عباس نے تین اور خرم شہزاد نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔
اس ٹیسٹ میچ کی ایک اور خاص بات
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلے ٹیسٹ میچ ہے۔
اس میچ کے آغاز سے قبل کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) نے سنیچر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو برائن لارا کرکٹ اکیڈمی (بی ایل سی اے) میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی یاد میں ایک یادگاری شیلڈ پیش کی۔
پی سی بی کی جانب سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس یادگاری شیلڈ کی تصویر شیئر کی ہے جس پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔