پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ مگر اس دوران راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔
راولاکوٹ میں کئی ہفتوں سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے (تصویر: 24 جون، 2026)پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ مگر اس دوران راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔
کشمیر پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی جس میں پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن امتیاز اسلم نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ میں 14 مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں جن میں بانی رکن عمر نذیر کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ شہر میں قیام کرنے کے بعد مظاہرین مظفر آباد کی طرف بڑھیں گے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے چار روز میں وہاں پہنچ جائیں گے۔
یاد رہے کہ دوسرے مرحلے میں پولنگ مظفرآباد میں دو اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو ہو گی۔
راولاکوٹ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم
راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے سنگولہ کے مقام سے راولاکوٹ شہر آنے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز اور پولیس نے ان مظاہرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ دو ہزار کے قریب مظاہرین بس ٹرمینل کی جانب سے راولاکوٹ کی جانب آئے تو انھیں بھی شہر میں داخل ہونے سے زبردستی روکا گیا۔
انھوں نے کہا کہ دریک کے مقام جہاں پر ایکشن کمیٹی ڈیڑھ ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہیں، وہاں سے تین ہزار کے لگ بھگ مظاہرین نے راولاکوٹ کی جانب مارچ کیا۔ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ دریک کی جانب سے آنے والے مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی فائرنگ کی۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی بڑی واضح پالیسی ہے کہ ’مظاہرین کی جانب سے جہاں سے فائرنگ ہوگی تو اس کے جواب میں فائرنگ کی جائے گی۔ جبکہ باقی مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ دریک کی جانب سے جو مظاہرین راولاکوٹ کی جانب آ رہے تھے تو ان میں خواتین بھی شامل تھیں جو کہ سب سے پیچھے تھیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں مظفر آباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔
مذکورہ کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے الزام عائد کیا ہے کہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ’پُرامن لانگ مارچ کے شرکا پر بلا اشتعال فائرنگ کی‘۔
انھوں نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ ’اب کسی صورت نہیں رُکے گا اور وہ مظفر آباد پہنچ کر ہی رہیں گے۔‘

الیکشن کے پہلے مرحلے کے دوران کیا ہوا؟
الیکشن کمیشن نے کہنا ہے کہ میرپور میں تشدد کے بعض واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے بتایا کہ ایل اے ون میرپور ون میں مسلم لیگ ن کے اظہر صادق 15 ہزار 427 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے افضل شاہد دوسرے نمبر پر رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ باقی نتائج بھی جلد جاری کر دیے جائیں گے۔
ووٹرز ٹرن آؤٹ کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ہر حلقے کا الگ الگ ٹرن آؤٹ رہا ہے تاہم میرپور ون میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 27 فیصد رہا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق اب تک کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالات کی وجہ سے یہ تاریخ کے سب سے سخت الیکشن تھے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اکا دکا واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی۔
ضلع کوٹلی کی چھ، ضلع بھمبر میں تین اور ضلع میرپور کی چار نشستوں کے مختلف پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ووٹروں کی تعداد ماضی کے مقابلے کم تھی۔ انتخابات کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 18 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فوج کے اہلکار بھی علاقے میں موجود تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور فون اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ماضی کی طرح انتخابی سرگرمیاں وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک نے میرپور کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا جہاں ان کے مطابق ’پولنگ کا عملہ ووٹرز کا انتظار کرتے دکھائی دیا۔ نوجوان ووٹرز بھی کم تھے۔‘
یاد رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی گذشتہ ماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
مظاہرین کی طرف سے لانگ مارچ اور الیکشن کا بائیکاٹ کیوں؟
24 جولائی کی رات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پہلے مرحلے میں سنیچر کو میرپور سے اُن کی تنظیم کے حامی افراد لانگ مارچ کرتے ہوئے راولا کوٹ میں دریک کے مقام پر پہنچیں گے جس کے بعد 27 جولائی کو راولا کوٹ سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اُن کی تنظیم اور اُس کے حامیوں کو الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سال مئی میں جب پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے تو اس دوران اُن کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن بعد میں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے کہ ان کی تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ ہزاروں کارکنان راولا کوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔
اس احتجاج کے دوران اب تک 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 34 افراد مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔
انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے ایک بار پھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے جو تاحال بے نتیجہ رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ مذاکرات میں شامل حکومتی ٹیم کے ایک رُکن نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی ہے۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کیوں ہوا؟
عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اُن کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ دریک کے مقام پر جاری دھرنے میں خواتین اور بچے موجود ہیں، تاہم 27 جولائی کو جب وہاں سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہو گا تو اس میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
مذاکرات میں شامل شخصیت کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔

12 نشستوں کا تنازع ہے کیا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔
کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن

گذشتہ ماہ سے جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے، جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اس کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی تیزی آئی تھی۔
گذشتہ ماہ احتجاج شروع ہونے کے کچھ روز بعد سکیورٹی اہلکاروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کو گرفتار کر لیا تھا۔
احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور اہم کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار میں بھی ڈال دیے تھے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھ شیڈول بھی کہا جاتا ہے، میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیر استعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔