عام طور پر حمل کے 37 سے 40 ہفتے مکمل ہونے کے بعد بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ لیکن اگر 37 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے ہی ولادت ہو جائے تو اسے ’پری ٹرم ڈلیوری‘ یا ’وقت سے پہلے پیدائش‘ کہا جاتا ہے۔

حمل کا دورانیہ ہر خاندان کے لیے خوشی اور انتظار کے خوبصورت لمحات لے کر آتا ہے۔
عام طور پر حمل کے 37 سے 40 ہفتے مکمل ہونے کے بعد بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ لیکن اگر 37 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے ہی ولادت ہو جائے تو اسے ’پری ٹرم ڈلیوری‘ یا ’وقت سے پہلے پیدائش‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی نو ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہونے والی ولادت۔
عالمی ادارۂ صحت کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بچوں کی پیدائش وقت سے پہلے (پری ٹرم) ہوتی ہے۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی اہم وجوہات میں وقت سے پہلے پیدائش ایک بڑی وجہ ہے۔
تاہم طبی شعبے میں دستیاب جدید علاج اور نگہداشت کی سہولتوں کی بدولت آج کل ایسے بہت سے بچے مکمل طور پر صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔
حمل کی مدت کے مطابق پری ٹرم پیدائش کو چار اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- انتہائی قبل از وقت (Extremely Preterm): 28 ہفتوں سے کم
- بہت زیادہ قبل از وقت (Very Preterm): 28 سے 32 ہفتے
- درمیانی درجے کی قبل از وقت (Moderate Preterm): 32 سے 34 ہفتے
- آخری مرحلے کی قبل از وقت (Late Preterm): 34 سے 36 ہفتے
حمل کی مدت جتنی کم ہوگی، بچے کو طبی مدد کی ضرورت اتنی ہی زیادہ پڑ سکتی ہے۔
وقت سے پہلے ولادت کی وجوہات کیا ہیں؟
کچھ معاملات میں اس کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، لیکن بعض حالات میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بچہ دانی یا اس کے منہ (سروکس) سے متعلق مسائل: سروکس کا کمزور ہونا یا بچہ دانی کی ساخت میں خرابی۔
پانی کا وقت سے پہلے بہہ جانا: امنیوٹک تھیلی پھٹ جانے کی وجہ سے دردِ زہ شروع ہونے سے پہلے ہی پانی بہہ جانا۔

انفیکشنز: پیشاب کی نالی کا انفیکشن، اندامِ نہانی کے انفیکشن اور بچہ دانی کے انفیکشن۔
ماں کی صحت: ماں کو ہائی بلڈ پریشر (ہائی بی پی)، پری ایکلیمپسیا، ذیابیطس (شوگر)، تھائرائیڈ کے مسائل اور خون کی کمی (انیمیا) جیسی صحت کی مشکلات ہونا۔
ایک سے زیادہ حمل: رحم میں جڑواں یا تین بچوں کا ہونا۔
طرزِ زندگی سے متعلق وجوہات: تمباکو نوشی، شراب نوشی، منشیات کا استعمال اور شدید غذائی قلت۔
دیگر وجوہات: ماضی میں بھی وقت سے پہلے ولادت ہو چکی ہو، ماں کی عمر 18 سال سے کم یا 35 سال سے زیادہ ہو، دو حملوں کے درمیان بہت کم وقفہ ہو، یا شدید ذہنی دباؤ موجود ہو۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں پیدا ہونے والے مسائل
بچے کی پیدائش جتنی زیادہ جلدی ہوگی، اس کے اعضا کی نشوونما مکمل نہ ہونے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
سانس لینے کے مسائل: پھیپھڑوں کی مکمل نشوونما نہ ہونے کی وجہ سے بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ پھیپھڑوں کے مکمل طور پر تیار نہ ہونے کے باعث ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (آر ڈی ایس) ہو سکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق سرفیکٹنٹ علاج دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
یرقان (پیلیا): پری ٹرم بچوں میں یرقان زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں کو فوٹوتھراپی سے فائدہ ہوتا ہے۔
خون میں گلوکوز کی کمی: پیدائش کے بعد ابتدائی دنوں میں خون میں گلوکوز کی سطح بار بار چیک کی جانی چاہیے۔
جسم کا درجۂ حرارت: جسم میں چربی کے ذخائر کم ہونے کی وجہ سے جسم کا درجۂ حرارت کم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ایسے بچوں کو انکیوبیٹر میں رکھنا پڑ سکتا ہے۔
دودھ پینے میں دشواری: دودھ چوسنا، نگلنا اور سانس لینا، یہ تینوں کام ایک ہی وقت میں کرنا ہوتے ہیں۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ صلاحیت مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتی۔
انفیکشنز: مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دماغی نشوونما: بعض بچوں میں دماغ میں خون بہنے یا نشوونما سست ہونے جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم باقاعدہ فالو اپ کے ذریعے ان کی بروقت تشخیص اور علاج کیا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کے مسائل: پری ٹرم بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی (آر او پی) ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے آنکھوں کا معائنہ کروانا ضروری ہے۔
سماعت کے مسائل: بعض بچوں کو سماعت کی صلاحیت جانچنے کے لیے ہیئرنگ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا وقت سے پہلے پیدا ہونے والے تمام بچوں کو زندگی بھر مسائل کا سامنا رہتا ہے؟
بالکل نہیں۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
34 سے 36 ہفتوں کے درمیان پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے چند دن طبی نگرانی اور دیکھ بھال میں رہنے کے بعد مکمل طور پر صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔
28 سے 32 ہفتوں کے درمیان پیدا ہونے والے بچے بھی جدیداین آئی سی یو علاج، مناسب غذائیت اور باقاعدہ فالو اَپ کی بدولت معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
اس لیے یہ سوچ کہ ’وقت سے پہلے پیدا ہونے کی وجہ سے مستقبل میں مسائل ضرور پیدا ہوں گے‘ بالکل غلط ہے۔

وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کو این آئی سی یو کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟
بہت سے والدین یہ سوچ کر گھبرا جاتے ہیں کہ بچے کو این آئی سی یو میں کیوں رکھا گیا ہے؟
لیکن بچے کو این آئی سی یو (نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ) میں رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی حالت بہت زیادہ خطرناک ہے۔
یہ ایک خصوصی شعبہ ہے جہاں بچے کو درکار خصوصی طبی نگہداشت اور علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
ضرورت کے مطابق این آئی سی یو میں فراہم کی جانے والی سہولتیں اور علاج
- سانس لینے میں مدد کے لیے CPAP یا وینٹی لیٹر کا استعمال۔
- انکیوبیٹر کے ذریعے جسم کے درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنا۔
- ڈرِپ (سَلائن) کے ذریعے سیال مادے اور ادویات دینا۔
- نالی (ٹیوب) کے ذریعے یا مخصوص طریقے سے ماں کا دودھ پلانا۔
- دل کی دھڑکن، سانسوں اور خون میں آکسیجن کی مقدار پر مسلسل نگرانی (مانیٹرنگ) رکھنا۔
- انفیکشن سے بچاؤ اور اس کا علاج کرنا۔
بچہ این آئی سی یو میں کتنے دن رہے گا، اس کا انحصار حمل کی مدت، بچے کے وزن اور اس کی صحت کی حالت پر ہوتا ہے۔
کیا وقت سے پہلے پیدا ہونے سے طویل مدتی مسائل پیدا ہوتے ہیں؟
بہت سے پری ٹرم (وقت سے پہلے پیدا ہونے والے) بچے مکمل طور پر معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ تاہم، جو بچے رحمِ مادر میں بہت کم مدت گزار کر پیدا ہوتے ہیں، ان میں بعض مسائل پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے:
- جسمانی نشوونما سست ہونا۔
- بولنے میں تاخیر ہونا۔
- سیکھنے یا باتوں کو سمجھنے میں تاخیر ہونا۔
- بینائی یا سماعت کے مسائل۔
- شاذ و نادر صورتوں میں سیریبرل پالسی (دماغی چوٹ کے باعث پٹھوں پر کنٹرول متاثر ہونا)۔
کینگرو مدر کیئر (کے ایم سی)
کم وزن والے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی مفید طریقہ ہے۔
بچے کو ماں یا والد کے سینے پر اس طرح رکھا جاتا ہے کہ اس کی جلد براہِ راست والدین کی جلد کے ساتھ رابطے میں ہو۔
اس کے فوائد:
- جسم کا درجۂ حرارت مستحکم رہتا ہے۔
- ماں کا دودھ بہتر مقدار میں آتا ہے۔
- انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
- بچے کا وزن زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔
- ماں اور بچے کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت بھی کینگرو مدر کیئر اپنانے کا مشورہ دیتا ہے۔

ماں کے دودھ کی اہمیت
- پری ٹرم (وقت سے پہلے پیدا ہونے والے) بچوں کے لیے ماں کا دودھ ایک دوا کی طرح ہوتا ہے۔
- ماں کا دودھ انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
- یہ آنتوں کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
- دماغی نشوونما کو فروغ دیتا ہے۔
- این ای سی(نیکروٹائزنگ انٹروکولائٹس) کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
- اگر بچہ براہِ راست دودھ نہ پی سکے تو ماں کا دودھ نکال کر پلایا جا سکتا ہے۔
والدین کے لیے اہم باتیں
- ڈاکٹر کی جانب سے دی گئی فالو اَپ کی تاریخوں کا لازماً خیال رکھیں۔
- حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوائیں۔
- بچے کے وزن پر باقاعدگی سے نظر رکھیں۔
- ضرورت کے مطابق آنکھوں کا معائنہ اور سماعت کا ٹیسٹضرور کروائیں۔
- بیمار افراد کو بچے سے دور رکھیں۔
- بچے کو ہاتھ لگانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
وقت سے پہلے ولادت۔۔۔ غلط فہمیاں اور حقیقت
غلط فہمی: وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کبھی بھی عام بچوں کی طرح بڑے نہیں ہو سکتے۔
حقیقت: جدید علاج کی سہولتوں کی وجہ سے یہ بچے مکمل طور پر صحت مند اور معمول کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔
غلط فہمی: بچے کو ایا آئی سی یو میں رکھا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی امید باقی نہیں۔
حقیقت: این آئی سی یو صرف خصوصی طبی نگہداشت کے لیے ہوتا ہے۔ بچہ مکمل صحت یاب ہو کر گھر جا سکتا ہے۔
غلط فہمی: وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کو ماں کا دودھ نہیں پلانا چاہیے۔
حقیقت: بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی سب سے بہترین غذا ہے۔
غلط فہمی: اگر بچے کا وزن کم ہو تو وہ ہمیشہ کمزور ہی رہے گا۔
حقیقت: مناسب غذا اور ڈاکٹر کی نگرانی میں بچے کا وزن آسانی سے بڑھ سکتا ہے۔

کیا وقت سے پہلے ہونے والی ولادت کو روکا جا سکتا ہے؟
اگرچہ ہر بار وقت سے پہلے ہونے والی ولادت کو روکنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن اس کے خطرے کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
- حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سے مشورہ اور باقاعدہ چیک اَپ شروع کر دینا چاہیے۔
- حمل کے دوران تجویز کردہ تمام طبی معائنے وقت پر کروانے چاہیں۔
- بلڈ پریشر (بی پی) اور ذیابیطس (شوگر) جیسی بیماریوں کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- کسی بھی قسم کا انفیکشن ہونے پر فوراً علاج کروانا چاہیے۔
- تمباکو نوشی اور شراب نوشی مکمل طور پر ترک کر دینی چاہیے۔
- متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک لینی چاہیے۔
- فولک ایسڈ، آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنی چاہئیں۔
- اگر پہلے کبھی وقت سے پہلے ولادت ہو چکی ہو تو اگلے حمل میں خصوصی احتیاط اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہسپتال کب جانا چاہیے؟
اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو کسی بھی قسم کی تاخیر کیے بغیر فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے:
- اندامِ نہانی سے پانی آنا (واٹر بریک ہونا)۔
- خون آنا یا خون بہنا۔
- بار بار دردِ زہ جیسی تکلیف یا اینٹھنیں محسوس ہونا۔
- بچے کی حرکت میں کمی آنا۔
- بہت زیادہ بخار ہونا۔
- پیٹ میں شدید درد ہونا۔
- شدید سر درد ہونا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا یا دھندلا نظر آنا۔
وقت سے پہلے ولادت ہونا یقیناً والدین کے لیے ایک پریشان کن اور خوف پیدا کرنے والا تجربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کی جدید طبی سہولتیں، نوزائیدہ بچوں کی خصوصی نگہداشت،این آئی سی یو کی سہولت، ماں کا دودھ، کینگرو مدر کیئر اور باقاعدہ طبی معائنے کی بدولت وقت سے پہلے پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے بڑے ہو کر صحت مند زندگی گزارتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، ملازمت کرتے ہیں اور خوشگوار خاندانی زندگی بسر کرتے ہیں۔
حمل کے دوران باقاعدہ طبی نگرانی، خطرے کی علامات کو نظر انداز نہ کرنا اور بروقت علاج حاصل کرنا ماں اور بچے، دونوں کی صحت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
(نوٹ: اس مضمون کے مصنف ایک ڈاکٹر ہیں۔ اس مضمون کا مقصد طبی معلومات اور علاج کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے براہِ کرم اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔)
بی بی سی کے لیے کلیکٹو نیوز روم کی پیشکش۔