مولانا طارق جمیل کے لاڈلے بیٹے عاصم جمیل کا دنیا سے اس طرح جانا یقیناً افسوسناک ہے۔ کسی کی موت پر ہمارے معاشرے کی بے حسی کھل کر سامنے آجاتی ہے جبکہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ مرحوم کس تکلیف سے اپنا وقت گزار کر گیا ہے۔ عاصم جمیل بچپن سے ہی شدید ڈپریشن کا شکار تھے لیکن وہ ایک نیک دل انسان تھے۔
عاصم جمیل کے قریبی دوست نے نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ موت سے 2 دن قبل عاصم نے اپنے کزن کو کہا تھا کہ دعا کرو میں اللہ کے پاس چلا جاؤں، میں شدید تکلیف میں ہوں۔ چونکہ عاصم کو 6 ماہ سے الیکٹرک جھٹکے لگ رہے تھے اور وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھے، ان کو اللہ سے ملنے کا بہت شوق تھا ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ دنیا میں رہنا چاہو گے یا اللہ سے ملاقات کرنا تو وہ فوراً کہتے تھے کہ میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا اللہ کے پاس جانے میں۔۔
عاصم چونکے چھوٹے تھے، اپنے والدین کے زیادہ لاڈلے تھے اور ماں سے بھی بہت قریب تھے لیکن جنازے کے وقت جب گھر میں ایک کہرام تھا وہاں صبر کی اعلیٰ مثال دیکھی گئی کہ ایک طرف بہنیں، بھائی رو رہے تھے وہیں دوسری طرف والدین نے صبرِ جمیل کی اعلیٰ مثال قائم کی اور ایک دوسرے کو اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا کہہ رہے تھے۔