لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس شاہد کریم نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت بتائے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس طرح مقرر کی جاتی ہیں۔ جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے کا طریقے کار واضح کیا جائے۔
مرغی کا گوشت مزید مہنگا، فی کلو 577 روپے کا ہو گیا
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، حکومت بغیر کسی وجہ کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں کو انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق بڑھایا گیا ہے، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اوگرا اور حکومتی موقف سمجھ سے بالا تر ہوتا ہے، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے۔
بعد ازاں، عدالت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔