فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے اور قانونی تجارت کے فروغ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سلسلے میں ایف بی آر کے ممبر (کسٹمز آپریشنز) سید شکیل شاہ اور چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد باسط مقصود عباسی نے 8 اور 9 جنوری 2026 کو کسٹمز ہاؤس کوئٹہ کا سرکاری دورہ کیا۔ کوئٹہ پہنچنے پر ان کا استقبال چیف کلکٹر کسٹمز (اپریزمینٹ) بلوچستان مسعود احمد، کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ ڈاکٹر کرم الٰہی، کلکٹر کسٹمز اپریزمینٹ کوئٹہ و تفتان داؤد پیرزادہ اور کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ گڈانی فضل صمد نے دیگر سینئر افسران کے ہمراہ کیا۔
دورے کے دوران سینئر افسران کو بلوچستان میں تجارتی صورتحال، تاجر برادری کو درپیش مسائل، انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائیوں، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور انفورسمنٹ کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ریونیو کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کسٹمز گڈانی کے دائرہ اختیار میں نمایاں کامیابیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد سے ملاقات کی، جہاں تاجروں نے اپنے مسائل پیش کیے۔ سینئر افسران نے موقع پر ہی مسائل کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔
دورے کے دوران کسٹمز ہاؤس کوئٹہ میں پودے لگائے گئے جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایف بی آر کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ کسٹمز انفورسمنٹ کے دو نئے سیکشنز کا افتتاح بھی کیا گیا۔
وفد نے کور کمانڈر کوئٹہ سے خیرسگالی ملاقات کے علاوہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (نارتھ و ساؤتھ)، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز اور چیف آف اسٹاف سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ، قانونی تجارت کے فروغ اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دورے کے اختتام پر ایف بی آر کے سینئر افسران نے بلوچستان میں پاکستان کسٹمز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انسدادِ اسمگلنگ اور ریونیو وصولی میں نمایاں بہتری پر فارمیشنز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔