میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس سال کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن شہر قائد میں 46 ارب روپے خرچ کرے گی۔
اپنے بیان میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنا اولین ترجیح ہے، چند ہفتوں میں پانی کی فراہمی کے لیے کام شروع کردیا جائے گا۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پانی چوری پر اسپیشل کورٹ بنائیں گے، چوری میں ملوث پرائیویٹ اور سرکاری افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
پاکستان تحریک انصاف کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھاکہ سہیل آفریدی اگر سیاست کرنے کے لیے آئے ہیں تو ہم حاضر ہیں، اگر وہ پروپیگنڈا اور چیزوں کو مفلوج کرنے کیلیے آئے ہیں تو یہ چیز غلط ہے، باغ جناح بڑا گراؤنڈ ہے اس کو بھرنا آسان نہیں، صاف صاف بولو بندے نہیں ہیں، گراؤنڈ بھرنے کیلیے سندھ حکومت بندے بھی دے، ہم اپنے جیالوں کو بولیں گے چلے جاؤ بھائی باغ جناح۔
ان کا کہنا تھاکہ سیاسی سرگرمیوں کیلیے اڈیالہ، لاہور اور کراچی ملتے ہیں، خیبر پختونخوا میں کیوں یہ سرگرمی نہیں کی؟ حلیم عادل شیخ کہہ رہے ہیں ٹوپی پہنائی ہے، حلیم بھائی آپ نے سہیل آفریدی کو ٹوپی پہنائی ہے، سیکیورٹی مہیا کرنے کیلیے کرکٹ کھیلنے والوں کو ہٹایا گیا تھا، سڑک بلاک کرنے کیلیے ہر گز ہم حامی نہیں ہیں، باغ جناح چھوڑو کے ایم سی کے کسی چھوٹے گراؤنڈ میں جلسہ کرلو۔
دوسری جانب کے ایم سی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس میں مبینہ میگا کرپشن پر نیب نوٹس کے معاملے پر میئر کراچی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ نیب کو مفصل جواب دیا جائے گا۔
مرتضی وہاب صدیقی نے کہا کہ جو تفصیلات مانگی گئی ہیں اس کا جواب جمع کروائیں گے، جیسا الزام لگایا گیا ہے ایسا کچھ ہے نہیں، اتنے عرصے کے بعد شہر میں کام شروع ہوا ہے، میں کہتا پھر رہا ہوں اس سال اتنے ارب روپے شہر میں انویسٹ کریں گے، بجائے اس بات کو ویلکم کیا جاتا نوٹس بھیج دیا گیا۔
میئر کراچی نے کہا کہ نو پرابلم، ہم نوٹس کا جواب دے دیں گے، جو شخص کام کرتا ہے اس سے ہی پوچھ کچھ کی جاتی ہے، جو کام نہیں کرتا اس سے سوال جواب نہیں کیا جاتا، اللہ خیر کرے گا، ہماری نیت صاف ہے۔
یاد رہے کہ نیب کراچی نے مئیر کراچی سے 2020 سے 2025 کے دوران ڈیولپمنٹ ورکس کی تفصیلات طلب کی ہیں، نیب کے مطابق کے ایم سی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس میں میگا کرپشن کی شکایت موصول ہوئی ہیں، مئیر کراچی سے 2020 سے 2025 کے دوران مکمل کیے گیے پروجیکٹس یا جن پر کام جاری ہے ان کی مکمل تفصیلات مانگی گئی ہیں۔