فولاد یا آئرن انسانی جسم کے لیے ایک بنیادی غذائی جزو ہے جو خون میں ہیموگلوبن بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کے ذریعے آکسیجن جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے۔ اگر جسم میں آئرن کم ہو جائے تو آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور انسان کمزوری، تھکن اور دیگر مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔
بغیر ٹیسٹ کے آئرن کی کمی کیسے پہچانی جائے؟
اگر آپ کے پاس فوری طور پر خون کا ٹیسٹ کروانے کی سہولت موجود نہیں، تو چند ظاہری علامات ایسی ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، آنکھوں کی نچلی پلک کو نیچے کھینچ کر دیکھیں، اگر وہ گلابی کے بجائے سفید یا زردی مائل دکھائی دے تو یہ ایک علامت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ناخنوں کی ساخت اگر کمزور، پھٹے ہوئے یا چمچ کی شکل اختیار کرلے تو یہ بھی فولاد کی کمی کی نشاندہی ہے۔ جلد کا پیلا ہونا، ہونٹوں کا بے رنگ نظر آنا اور بالوں کا غیر معمولی گرنا بھی وہ نشانیاں ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
آئرن کی کمی کی صورت میں کیا کھائیں؟
قدرتی طور پر آئرن کی مقدار کو بڑھانے کے لیے غذا میں تبدیلی کرنا ایک مؤثر حل ہے۔ پالک، سرخ گوشت، کلیجی، چنے، لوبیا، خشک خوبانی، کشمش، چقندر اور انار جیسی غذائیں فولاد سے بھرپور ہوتی ہیں اور جسم میں آئرن کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اگر ان غذاؤں کے ساتھ وٹامن سی جیسے لیموں یا کینو کا استعمال کیا جائے تو آئرن کا جذب بہتر ہو جاتا ہے۔
کون سی چیزیں آئرن جذب میں رکاوٹ بنتی ہیں؟
اکثر لوگ کھانے کے ساتھ چائے یا دودھ پینے کے عادی ہوتے ہیں، لیکن یہ دونوں چیزیں آئرن کے جذب میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ بہتر ہے کہ ان کا استعمال کھانے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل یا بعد میں کیا جائے تاکہ غذا سے حاصل ہونے والا فولاد مکمل طور پر جسم میں جذب ہو سکے۔
اگر آپ کو بار بار چکر آنا، سانس پھولنا، جسمانی کمزوری یا جلد کی رنگت میں فرق محسوس ہو، تو یہ ممکنہ طور پر آئرن کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں فوری طور پر اپنی خوراک کا جائزہ لیں اور آئرن سے بھرپور اشیاء کو معمول کا حصہ بنائیں۔ اگر علامات برقرار رہیں تو خون کا ٹیسٹ ضرور کروائیں اور کسی ماہر معالج سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو۔ جسمانی صحت کی بحالی اور توانائی کی واپسی کے لیے فولاد کی سطح کا متوازن ہونا بے حد ضروری ہے۔